دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 216
216 (Sectarian War, by Khaled Ahmaed, published by Oxford 2013 p20) چنانچہ بعد میں برملا یہ فتاویٰ جاری ہوئے کہ قادیانیوں کی طرح شیعہ بھی ختم نبوت کے منکر ہیں۔چنانچہ خمینی اور اثناء عشریہ کے بارے میں علماء کرام کا متفقہ فیصلہ میں لکھا ہے استفتاء میں تیسرا مسئلہ یہ پیش کیا گیا ہے کہ شیعہ اثنا عشریہ اپنے عقیدہ امامت کی وجہ سے ختم نبوت کے منکر ہیں۔اس بارے میں جو کچھ بھی استفتاء میں لکھا گیا ہے امید ہے کہ اسی کے مطالعہ سے ناظرین کو اس بارے میں اطمینان و یقین حاصل ہو جائے گا۔اور عقیدہ ختم نبوت کا قطعیات اور ضروریات دین میں سے ہونا کسی وضاحت کا محتاج نہیں ، قادیانیوں کو خاص کر عقیدہ ختم نبوت کے انکار ہی کی وجہ سے کافراور خارج از اسلام قرار دیا گیا ہے۔اگر چہ وہ اپنے اس انکار کی تاویل کرتے ہیں اور اپنے تراشے ہوئے معنی کے لحاظ سے حضور کو خاتم النبین بھی کہتے ہیں بالکل یہی حال اثنا عشریہ کا ہے۔جیسا کہ استفتاء میں وضاحت سے لکھ دیا گیا ہے۔“ ثمینی اور اثناء عشریہ کے متعلق علماء کرام کا متفقہ فیصلہ۔ماہنامہ بینات خصوصی اشاعت صفحہ ۲۱) 66 اس طرح جلد ہی دوسری آئینی ترمیم کا یہ نتیجہ برآمد ہوا۔نہ صرف کفر کے باہمی فتاویٰ میں تیزی آگئی بلکہ قتل و غارت کا بازار بھی گرم ہو گیا۔یہ آگ صرف ایک ضلع تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے کر ایک خون ریز جنگ کا روپ دھار لیا۔جیسا کہ مجاہد حسین صاحب لکھتے ہیں فرقہ وارانہ جنگ پاکستان میں اپنا رنگ دکھانے لگی اور ایک دوسرے کو قتل کرنے کا سلسلہ طویل ہوتا گیا۔جنگ میں سپاہ صحابہ کے سربراہ مولانا حق نواز جھنگوی کے قتل کے بعد فرقہ وارانہ فسادات شدت اختیار کر گئے۔جھنگ کے اہل تشیع جاگیرداروں اور آباد کا رسنیوں کے درمیان قتل و غارت کا سلسلہ آہستہ آہستہ پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لینے لگا۔“ پنجابی طالبان ، مصنفہ مجاہد حسین ، ناشر سانجھ لاہور مارچ ۲۰۱۱ ، صفحہ ۳۱)