دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 151
151 نشاندہی کر سکتا کہ قبلہ کہاں بہک گئے ہیں؟ آپ کے تو بیان کردہ نکات کا کوئی سر پیر ہی نہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ نہر سویز ۱۷۶۹ء میں نہیں بلکہ اس کے پورے سوسال بعد ۱۸۶۹ء میں مکمل ہوئی تھی اور اس دس سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل ہی برصغیر پر برطانوی حکومت قائم ہو چکی تھی۔مفتی صاحب تاریخی حقائق نہیں بلکہ افسانے بیان کر رہے تھے۔بہر حال افریقہ کے جنگلات اور نہر سویز کی تعمیر سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے یہ بتانا شروع کیا کہ جب انگریزوں نے برصغیر پر قبضہ کرنا شروع کیا تو اس کی راہ میں کون سے دو عوامل حائل تھے۔انہوں نے کہا: انگریز نے جب برصغیر اور عالم اسلام میں اپنا پنجہ استبداد جمانا شروع کیا تو اس کی راہ میں دو باتیں رکاوٹ بننے لگیں۔ایک تو مسلمانوں کی نظریاتی وحدت دینی متعقدات سے غیر متزلزل وابستگی اور مسلمانوں کا وہ تصور اخوت جس نے مغرب و مشرق کو جسد واحد بنا کے رکھ دیا تھا۔دوسری بات مسلمانوں کا لا فانی جذ بہ جہاد جو بالخصوص عیسائی یورپ کے لئے صلیبی جنگوں کے بعد وبال جان بنا ہوا تھا اور آج ان کے سامراجی منصوبوں کے لئے قدم قدم پر سد راہ ثابت ہورہا تھا۔“ (صفحہ نمبر ۲۰۱۹) جیسا کہ بعد کے حصہ سے ظاہر ہو جائے گا کہ مفتی محمود صاحب اب یہ الزام لگانے کے لیے پر تول رہے تھے کہ انگریز برصغیر پر قبضہ کرنا چاہتے تھے لیکن کیا کرتے اس کی راہ میں دو چیزیں حائل تھیں۔ایک تو ہندوستان کے مسلمانوں میں اتحاد بہت تھا اور دوسرے ہندوستان کے مسلمانوں کا جذ بہ جہا د انگریزوں کے عزائم میں حائل ہور ہا تھا، اس لیے انہوں نے ان دو مسائل کے حل کے لیے نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کھڑا کیا تا کہ مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کیا جا سکے اور ان کا جذ بہ جہا دکو سرد کیا جاسکے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ عجیب الخلقت الزام لگانے سے پہلے مناسب ہوتا کہ مفتی صاحب یا جس نے بھی انہیں یہ تقریر لکھ کر دی تھی کم از کم بنیادی تاریخ کے حقائق کا جائزہ لے لیتے۔جماعت احمدیہ کی بنیاد ۱۸۸۹ء میں رکھی گئی تھی اور اس سے تہیں سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل بنگال سے لے کر