دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 139 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 139

139 کوئی جواب نہیں دے سکے مثلا انہوں نے ترندی کی حدیث کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر نبی ہوتے تو بیان کی لیکن جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کئے جانے والے ضمیمے میں اس اُٹھائے گئے اس نکتہ کا جواب نہیں دے سکے کہ خود امام ترمذی نے ہی جامع ترمذی میں اس حدیث کو غریب قرار دیا ہے جوا کیلے راوی کے باعث حجت نہیں ہو سکتی۔اور حدیث کی دوسری کتب میں اس حدیث کے الفاظ یوں بیان ہوئے ہیں کہ اگر میں تم میں مبعوث نہ ہوتا تو عمر تم میں مبعوث ہوتے اور یہاں لفظ بعدی سے معاً بعد بھی مراد ہوسکتی ہے۔یہ لغوی طور پر بھی صحیح ہے اور اس طرح اس حدیث اور دوسری احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے اور اسی طرح مفتی محمود صاحب نے یہ حدیث تو بیان کی کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی کو فرمایا کہ کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم میرے ساتھ اس طرح ہو جس طرح موسی کے ساتھ ہارون تھے لیکن میرے بعد نبوت نہیں لیکن مفتی محمود صاحب جماعت احمدیہ کی طرف سے اُٹھائے گئے اس نکتہ کا جواب دینا تو ایک طرف رہا، اس کا ذکر تک نہ کر سکے کہ یہاں یہ موضوع زیر بحث نہیں کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد کوئی نبی ہو سکتا ہے کہ نہیں۔علم حدیث کے ائمہ جن میں الطبقات الکبریٰ کے مصنف محمد بن سعد بھی شامل ہیں اس کا یہی مطلب کرتے آئے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کا یہی مطلب تھا کہ آنحضرت ﷺ کے غزوہ تبوک کے جانے کے بعد حضرت علی کا مقام مدینہ میں اسی طرح ہوگا جس طرح حضرت موسی کے کوہ طور پر جانے کے بعد حضرت ہارون کا تھا لیکن اس فرق کے ساتھ حضرت علی مقام نبوت پر فائز نہیں ہوں گے۔( تفصیلات کے لیے ملاحظہ کیجے " القول المبین فی تفسیر خاتم النبین صفحہ ۶۱ ۲۶۲)۔مفتی محمود صاحب اگر کوئی علمی بحث اُٹھانا چاہتے تو جماعت احمدیہ کی طرف سے اُٹھائے گئے ان نکات کا کوئی جواب دیتے لیکن انہوں نے اس سے گریز ہی کیا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کردہ قرآنی آیات کے رد کی کوشش جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ مفتی محمود صاحب بار بار ذ کر تو کرتے رہے کہ وہ اپنے موقف کی تائید میں بیسیوں قرآنی آیات پیش کر سکتے ہیں لیکن وہ شروع سے لے کر آخر تک ایسا نہ کر سکے