دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 133 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 133

133 دوسرے اس کتابچے میں اگر چہ کافی محنت سے وہ تمام تشدد آمیز مواد اکٹھا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو باہمی اختلافات کے دوران منظر عام پر آیا ہے لیکن ان بیسیوں اقتباسات میں مسلمان مکاتب فکر کے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے کل پانچ ہیں۔باقی فتوے نہیں بلکہ وہ عبارتیں ہیں جو ان کے افسوس ناک باہمی جھگڑوں کے درمیان ان کے قلم یا زبان سے نکلیں۔ان میں ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان تو بے شک استعمال کی گئی ہے لیکن انہیں کفر کے فتوے قرار دینا کسی طرح درست نہیں۔یہ کتابچہ جماعت احمدیہ کے محضر نامہ کا حصہ بھی بنا تھا۔اور اس میں اس اعتراض کا جائزہ لیا گیا تھا کہ احمدی مسلمان غیر احمدی مسلمانوں کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے۔مفتی محمود صاحب نے اس کتا بچہ میں درج دلائل کا رد نہیں پیش کیا۔اور مفتی محمود صاحب نے ایک بھی مثال نہیں پیش کی کہ وہ فتوے کون سے تھے جو کہ غلط منسوب کیے گئے تھے۔جہاں تک کفر کے فتاویٰ کی مثالوں کا تعلق ہے تو وہ تو جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کیے جانے والے ضمیمہ نمبر ۴ میں پیش کی گئی تھیں۔اس ضمیمہ کا نام تھا باہمی فتاویٰ کفر کا مستند مجموعہ۔اس کتاب میں بیسیوں مثالوں سے یہ واضح کیا گیا تھا کہ ابتدائی صدیوں سے لے کر اب تک علماء کے ایک طبقہ کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔یہ بیسیوں فتاوی کئی ابواب میں جمع کیے گئے تھے۔اس ضمیمہ میں پہلے باب کا نام تھا بریلوی علماء کے نزدیک سب دیوبندی کا فر ہیں۔اس میں پہلا فتوی احمد رضا خان صاحب کا تھا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ دیو بندی ( جن سے خود مولوی مفتی محمود صاحب کا بھی تعلق تھا ) سب کے سب مرتد اور باجماع امت اسلام سے خارج ہیں (صفحہ ۷ )۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ احمد رضا خان صاحب بریلویوں کے مسلمہ قائد نہیں ہیں اور محض عطائی قسم کے عالم تھے۔پھر اس کے بعد مکہ اور مدینہ کے علماء کے فتاوی درج کئے گئے تھے۔کیا اب بھی کوئی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ یہ سب کے سب عطائی قسم کے علماء تھے۔پھر تین سو علماء کا مشترکہ فتویٰ درج کیا گیا تھا۔کیا یہ علماء کی قلیل تعداد کا فتویٰ تھا ؟ سیال شریف کا فتویٰ درج کیا گیا تھا۔کیا مفتی محمود صاحب سیال شریف کے نام سے بھی واقف نہیں تھے ؟ پھر دوسرا باب ملاحظہ کریں ؟ اس باب کا عنوان تھا دیو وو