دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 132
132 صرف جماعت احمدیہ کا سوال نہیں پاکستان یا دنیا میں کوئی بھی مسلمان نہیں کہلا سکے گا کیونکہ ہر فرقہ کے خلاف دوسرے فرقوں کے کفر کے فتوے موجود ہیں۔اب مفتی محمود صاحب یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ اس نکتہ کا جواب دے رہے ہیں چنانچہ انہوں نے کہا : اصل مسئلہ سے توجہ ہٹانے کے لئے دوسرا مغالطہ مرزائیوں کی طرف سے یہ دیا جاتا ہے کہ جو علماء ہم پر کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں وہ خود آپس میں ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے آئے ہیں۔لہذا ان کے فتووں کا اعتبار اٹھ گیا ہے۔لیکن اس ”دلیل“ کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ چونکہ بعض عطائیوں اور ڈاکٹروں نے کچھ لوگوں کا غلط علاج کیا ہے اس لئے اب کوئی ڈاکٹر مستند نہیں رہا اور اب پوری میڈیکل سائنس ہی ناکارہ ہوگئی ہے اور وہ طبی مسئلے بھی قابل قدر نہیں رہے جن پر تمام دنیا کے ڈاکٹر متفق ہیں۔“ ( کارروائی صفحه ۱۹۹۴) اس کے بعد توقع کی جاسکتی تھی کہ مفتی محمود صاحب جماعت احمدیہ کے محضر نامہ میں اور سوال و جواب کے دوران اور محضر نامہ کے ضمیمہ نمبر چار ” مسلمانان پاک و ہند کی تمام مشہور مذہبی و سیاسی جماعتوں کے باہمی فتاویٰ کفر کا مستند مجموعہ میں پیش کردہ حوالوں کا کوئی جواب دیں گے یا وضاحت پیش کریں گے لیکن اس کی بجائے مفتی محمود صاحب نے کہا تو کیا کہا۔وہ کہنے لگے: حال ہی میں مرزائی جماعت کی طرف سے ایک کتابچہ شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے ” ہم غیر احمدیوں کے پیچھے کیوں نماز نہیں پڑھتے “ اور اس میں مسلمان مکاتب فکر کے باہمی اختلافات اور ان فتاوی کو انتہائی مبالغہ آمیز انداز میں پیش کیا گیا ہے جن میں ایک دوسرے کی تکفیر کی گئی ہے۔لیکن اول تو اس کتابچے میں بعض ایسے فتووں کا حوالہ ہے جن کے بارے میں پوری ذمہ داری سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے کہنے والوں کی طرف بالکل غلط منسوب کئے گئے ہیں۔