دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 118
118 سابق ریاست کا فیصلہ ہے۔ہمارے لئے یہ بات قابل تعجب ہے کیونکہ یہ غیر متعلقہ ہیں کیونکہ یہ ماتحت عدالتوں کے فیصلے ہیں اور قانون شہادت ۱۸۷۲ء کے سیکشن ۱۳ کے مطابق متعلقہ نہیں ہیں۔جہاں تک اس دعوے کا تعلق ہے کہ احمدی مرتد ہیں اور انہیں موت کی گھاٹ اتار دینا چاہیے۔اس کے متعلق ہمیں صرف یہ کہنا ہے کہ یہ مذہبی تشدد کی افسوسناک مثالیں ہیں۔اگر انسانی سوچ میں کچھ بھی شرافت باقی ہے تو اس کے خلاف انسانی ضمیر کو بغاوت کرنی چاہیے۔یہ سوچ قرآنی تعلیمات کے کس قدر خلاف ہے اس کا اندازہ قرآن کریم کی دوسری سورۃ کی آیت ۲۵۶ سے بخوبی ہو جاتا ہے۔قرآن کریم واضح الفاظ میں آزادی ضمیر کی ضمانت دیتا ہے۔اس آیت کا ترجمہ ہے: دین کے معاملہ میں کوئی جبر نہیں۔“ مندرجہ بالا حوالہ سے صاف ظاہر ہے کہ خود پاکستان کی ہائی کورٹ نے احمدیوں کو مرتد قرار دینے کو قرآنی تعلیمات کے خلاف قرار دیا تھا اور آغا شورش کاشمیری صاحب کی طرف سے جو فیصلے جن میں بہاولپور کی عدالت کا مذکورہ فیصلہ بھی شامل تھا، کو غیر متعلقہ قرار دیا تھا۔پھر عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا The whole burden of argument of petitioners learned counsel was that Ahmadis are not a sect of Islam and the petitioners right to say so is guaranteed by the constitution۔But learned counsel overlooks the fact that Ahmadis as citizens of Pakistan are also guaranteed by the Constitution the same freedom to profess and proclaim that they are within the fold of Islam۔The question at the root is how far the petitioners and others can in law prevent the Ahmadis from likeminded professing that notwithstanding any doctrinal differences