دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 9
9 تخریبی کارروائیوں کا ثبوت کیوں نہیں دیا گیا ؟ اس قرارداد میں عقل کا فقدان اور بدتہذیبی کا مظاہرہ تو عیاں ہے۔جب ہم مولوی حضرات کے محضر نامہ یا موقف کا جائزہ لیں گے تو اس کے ساتھ اس قرارداد کے مختلف حصوں کا تجزیہ بھی پیش کرتے جائیں گے لیکن اس مرحلہ پر چندا مور کا مختصر تجزیہ پیش کرنا ضروری ہے۔اس قرارداد میں جماعت احمدیہ پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ وہ تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہے۔یہ ایک سنگین الزام ہے۔اس الزام کو صرف اس صورت میں قابل غور سمجھا جاسکتا ہے جب اس کے ثبوت کے طور پر ٹھوس شواہد پیش کئے جائیں۔اس تقریر سے قبل کئی روز تک جماعت احمدیہ کے وفد پر سوالات کئے گئے تھے۔اگر ان حضرات کے پاس ان فرضی تخریبی کارروائیوں“ کا کوئی بھی ثبوت ہوتا تو ضرور جماعت احمدیہ کے وفد کے سامنے رکھ کر ان سے جواب طلب کرتے یا کم از کم ان کو پیش کر کے جماعت احمدیہ کے وفد کو لا جواب کر دیتے لیکن کیا اس کا کوئی بھی ثبوت پیش کیا گیا؟ تمام کارروائی اس بات کی گواہ ہے اور ہم اس کتاب کی پہلی جلد میں جائزہ پیش کر چکے ہیں کہ ایسا نہیں کیا گیا ؟ کیوں نہیں کیا گیا؟ اس لئے کہ یہ صرف ایک بے بنیاد الزام تھا اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں تھی اور اس کا رروائی کے دوران یہ الزام بار بار لگایا گیا لیکن ٹھوس ثبوت ایک مرتبہ بھی نہیں پیش کیا گیا آخر کیوں؟ اس قرار داد کو پیش کرنے والے تاج برطانیہ کے دیرینہ خادم تھے اس قرار داد کو ۲۲ ممبران اسمبلی کے دستخطوں کے ساتھ پیش کیا گیا تھا۔بعد میں ۱۵ مزید ممبران نے اس پر دستخط کیے تھے۔اب ہم قرار داد کے اس حصہ کا تجزیہ کرتے ہیں نیز ہر گاہ وہ سامراج کی پیداوار تھا اور اس کا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اور اسلام کو جھٹلانا تھا۔“ قرار داد کے اس حصہ میں یہ پرانا الزام دہرایا گیا ہے کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس وقت انگریز حکمرانوں نے اپنے مقاصد کے لیے کھڑا کیا تھا اور اس کا مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو