دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 67
67 اور حضرت بایزید بسطامی کا قول ہے: 66 " عارف کا ادنیٰ مقام یہ ہے کہ صفات خداوندی کا مظہر ہو۔“ تذکرۃ الاولیاء مصنفہ حضرت شیخ فریدالدین عطار ناشر الحمد پبلیکیشنز ۲۰۰۰ صفحه ۱۵۲) اس سے بڑھ کر حدیث نبوی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔“ (صحیح مسلم کتاب بر والصلۃ والادب ) ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ تو ظاہری صورت سے بے نیاز ہے۔اس سے مراد یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر ہوتا ہے اور یہی معنی بروز کے ہیں۔اگر اسلامی لٹریچر کا جائزہ لیا جائے تو اس الہام پر کسی قسم کا کوئی اعتراض اٹھ نہیں سکتا۔اگر صرف ظاہری الفاظ کو دیکھا جائے تو بہت سے اولیاء نے اس سے بہت بڑھ کر دعاوی کئے ہیں۔ایک مثال پیش ہے۔تذکرۃ الاولیاء مرتبہ حضرت شیخ فریدالدین عطار سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کچھ اولیا ء ذات باری تعالیٰ سے محبت اور عشق کی وجہ سے اور فنافی اللہ ہونے کی حالت میں انسی انا الله میں خدا ہوں ) کے الفاظ کہتے تھے اور بہت سے معروف اولیاء کے نزدیک یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں تھی۔جیسا کہ تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے: مجھے تو اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ لوگ درخت سے انــی انـا الــلــه میں خود خدا ہوں) کی صدا کو تو جائز قرار دیتے ہیں اور اگر یہی جملہ آپ کی زبان سے نکل گیا تو خلاف شرع بتاتے ہیں۔“ (تذکرۃ الاولیاء مصنفہ حضرت شیخ فرید الدین عطار" الحمد پبلیکیشنز لاہور۔۲۰۰۰ صفحه ۳۸۳) اور حسین منصور حلاج کے معروف واقعات تو سب کے علم میں ہیں کہ آپ نے بارہا انا الحق کا نعرہ بلند کیا اور اسی وجہ سے بادشاہ کے حکم پر آپ کو سزائے موت دی گئی اور تو اور تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے: آپ قید خانہ کے اندر ایک رات میں ایک ہزار رکعت نماز ادا کیا کرتے تھے،