دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 183
183 ہاتھ پاؤں ماررہے تھے۔اس کے بعد مفتی محمود صاحب نے یہ نتیجہ پیش کیا کہ اصل میں احمدی ان ممالک میں جذبہ جہاد کے ختم کرنے کے لیے کوششیں کر رہے تھے۔یہاں پر یہ سوال لازماً پیدا ہوتا ہے کہ ۱۹۲۰ء کی دہائی میں جماعت احمدیہ کے مبلغین مغربی افریقہ میں پہنچے۔اس دور میں غانا، نائیجیر یا اور سیرالیون میں کون سا جہاد ہو رہا تھا جس کو ختم کرنے کے لیے یہ سازش ہو رہی تھی۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اس وقت ان ممالک میں کوئی جہاد نہیں ہو رہا تھا۔صرف ایک بے بنیا د افسانہ ممبران اسمبلی کے سامنے ہے۔پیش کیا جارہا تھا۔اس کے بعد مفتی محمود صاحب نے اپنے ہمنوا جماعت احمدیہ کے مخالفین کی تحریرات سے یہ ثابت کرنے کے لیے کوششیں کہ افریقہ میں جماعت احمد یہ استعماری طاقتوں اور صیہونی طاقتوں کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہی ہے لیکن جیسا کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ ان کا جھوٹ بولنا کئی مرتبہ ثابت کیا جا چکا ہے اور ان کی کوئی حیثیت نہیں اس لیے ان کی تفصیلی تردید کرنے کی ضرورت نہیں سنسنی پیدا کرنے کے لیے مفتی صاحب نے جماعت احمدیہ کے مخالف محمود الصواف کی تحریر کا حوالہ پیش کیا کہ ادیس ابابا میں جماعت احمدیہ کے مشن کا ۳۵ ملین ڈالر کا بجٹ ہے اور یہ مسلمانوں کے خلاف استعمال ہورہا ہے۔یہ بالکل مضحکہ خیز دعویٰ تھا کیونکہ اس وقت جماعت احمدیہ کا ادیس ابابا میں مشن ہاؤس تھا ہی نہیں اور اس وقت تمام مشنز کا کل بجٹ ۳۵ ملین ڈالر نہیں تھا۔ایک بار پھر مفتی صاحب نے ماریشس کی سپریم کورٹ کے فیصلہ کا ذکر کیا لیکن ہم اس بارے میں پہلے ہی ثابت کر چکے ہیں کہ یہ غلط بیانی تھی اس لیے اس کا جواب دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔اس کارروائی کے چند سال قبل ہی حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے مغربی افریقہ کے ممالک کے لیے نصرت جہاں آگے بڑھ سکیم کا اجراء فرمایا تھا۔اس سکیم کے تحت مغربی افریقہ میں ہسپتالوں اور سکولوں کے ذریعہ خدمت کا کام پہلے سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھانا تھا۔اس تقریر میں مفتی محمود صاحب نے اس حوالے سے بھی سنسنی خیز الزامات لگانے کی کوشش کی اور اس کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا کہ الفضل کے حوالے پیش کیے تاکہ سامعین پر یہ تاثر جمایا جا سکے کہ ہم جو الزام لگا 66