دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 107
107 رہتے ہیں۔۔۔۔لا ہور میں اس دجال کے پیچھے تالیاں بجیں۔۔66 (اشاعۃ السنہ نمبر ۹ جلد ۱۸صفحه ۲۵۳ تا ۲۸۳) یہ تمام بدزبانی اور گالیاں صرف ایک مضمون سے لی گئی ہیں۔ان جیسے علماء اپنا یہ حق سمجھتے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں جس طرح چاہیں سخت الفاظ سے یاد کریں اور گالیوں سے نواز میں لیکن اگر ان کے متعلق اگر کوئی مناسب سخت الفاظ بھی استعمال کیا جائے تو اس پر واویلا سو برس سے بھی زیادہ چلتا ہے کہ دیکھو کیسا ظلم ہو گیا۔مفتی محمود صاحب سابقہ فتاویٰ اور عدالتی فیصلوں کا سہارا لینے کی کوشش کرتے ہیں۔غلط بیانیوں کی فہرست میں مزید اضافہ اب مفتی محمود صاحب نے دلائل کی کمی کا ازالہ کرنے کے لیے ایک اور طریقہ اختیار کیا اور وہ طریقہ یہ تھا کہ ماضی میں جماعت احمدیہ کے خلاف پیش کیے جانے والے فتاویٰ پیش کرنے شروع کیے اور سابقہ عدالتی فیصلے پڑھنے شروع کیے جن میں ان کے مطابق جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا اور اس بیان سے قبل یہ حدیث پیش کی : لَنْ تَجْتَمِعَ أُمَّتِي عَلَى الضَّلَالَةِ یعنی میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہوگی۔یہ حدیث تو یقناً سچ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی امت کو اللہ تعالی گمراہی پر جمع نہیں ہونے دے گا اور ایک نہ ایک حصہ حق پر ثابت قدم رہے گا لیکن مفتی محمود صاحب ایک اور اہم حدیث بیان کرنا بھول گئے تھے اور حدیث نبوی یہ ہے۔حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ میری امت کو یا یہ فرمایا محمد ﷺ کی امت کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا 66 اور اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہوگا۔جو ان سے علیحدہ ہوا وہ آگ میں ڈالا گیا۔“ ترندی کتاب الفتن باب ماء جاء فی لزوم الجماعة ) ظاہر ہے کہ اس تاریخی موڑ پر یہ تمام فرقوں سے وابستہ افراد جماعت کی کسی کی تعریف کی رو سے جماعت نہیں کہلا سکتے تھے۔خاص طور پر جبکہ ان کے آپس میں ایک دوسرے کے خلاف کفر کے