مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 8 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 8

حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 8 مولویانی صاحبہ (اہلیہ حضرت عبدالکریم) نے بھی رونا شروع کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام غالبا عصر کی نماز کے بعد باہر سے تشریف لائے اور یہ نقشہ آہ وزاری کا دیکھ کر گبھرا گئے اور اب تک مجھے یاد ہے۔کہ۔آپ کہہ رہے تھے :۔" کیا مبارکہ کو چوٹ لگی اس کو تکلیف ہے، بتاؤ۔“ حضرت اماں جان نے اسی طرح مجھے گود میں لئے لئے روتے روتے بتایا کہ چوٹ نہیں لگی۔میں اس لئے رورہی ہوں کہ یہ بچی جو بھائیوں کے پیار میں کسی کی شرکت برداشت نہیں کر سکتی۔شریف ایک لڑکی سے بول پڑا جس سے بولنے سے اس نے روکا تھا اور اس کی رو رو کر غشی کی سی حالت ہو گئی۔ایسی پر اگر سو کن آ جائے تو یہ کس طرح برداشت کرے گی ؟ آپ نے فرمایا اور کافی بلند پر جوش مگر تسلی بخش آواز سے کہ:۔اس پر ہرگز سوکن نہیں آئے گی اس بات کا کوئی فکر نہ کرو (1) اپنے بچپن سے مجھ پر بے حد شفقت فرمائی میں چھوٹی تھی تو رات کو اکثر ڈار کر آپ علیہ السلام کے بستر میں جا گھستی۔جب ذرا بڑی ہونے لگی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”جب بچے بڑے ہونے لگتے ہیں(اس وقت میری عمر کوئی پانچ سال کی تھی تو پھر بستر میں اس طرح نہیں آگھا کرتے۔میں تو اکثر جاگتا رہتا ہوں، تم چاہے سو دفعہ مجھے آواز دو میں