مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 76
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 76 میرے میاں (حضرت نواب محمد علی خان صاحب) انتہا کے سیر چشم ، وسیع اخلاق کے مالک کسی کی برائی نہ کرنے والے نہ سننے والے، ہر ایک کی خوشی میں دل سے خوش ہونے والے، بے حد دل کے غنی ، صدق وغناء و سیر چشمی ، عالی حوصلگی اور رفعت و وسعت اخلاق ، خصوصیتیں تھیں اُن کی سیرت کی اور یہ صفات اُن میں پورے طور پر جلوہ گر تھیں۔مجھے اپنی ساری زندگی میں جو ان کے ساتھ گزاری کبھی اُن میں ستم ذرا بھی نظر نہیں آیا بلکہ زیاد و ہی زیادہ یہ خو بیاں چپکتی نظر آتی رہی ہیں۔مگر ان کی بڑی خوبی ان کا ایمان تھا جس کے ظہور کو میں ہر امر میں دیکھتی رہی ہوں۔جہاں تک خدا نے مجھے دکھایا میں خدا کو شاہد کر کے کہہ سکتی ہوں کہ وہ شخص ایک اعلیٰ درجہ کے ایمان کا مالک تھا۔یہ بھی خدا تعالی کا اُن پر ایک خاص احسان تھا ورنہ آدمی خود تو یہ بات پیدا نہیں کر سکتا۔مجھے خود حضرت والدہ صاحبہ ساتھ لے جا کر نواب صاحب کے گھر چھوڑ آئی تھیں اور اُن کے سپر د کیا تھا اور خدا کی ہزار ہا رحمتیں روز بروز لمحہ لمحہ بڑھتی ہوئی اُن کی روح پر نازل ہوں اُس ہاتھ پکڑنے کی لاج ، جب تک میرے ہاتھ خدا کے ہاتھ میں دے کر رخصت نہیں ہو گئے ، ایسی رکھی کہ مجھے تو کہیں نظیر نہیں ملتی ، ایسا نبھایا جو نبھانے کا حق ہے۔عمر بھر میں اُن کی