مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 71
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 71 ایک دفعہ شاید کپڑے بھگو لینے پر ہاتھ اٹھا کر دھمکی دی تو بہت گھبرا کر کہنے لگے:۔نہ انتہاں کہیں چوڑیاں نہ ٹوٹ جائیں“۔اور حضرت اماں جان نے مسکرا کر ہاتھ نیچے کر لیا۔حضرت اماں جان سے محبت بھی بے حد کرتے تھے اور ادب و احترام بھی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیا۔روز آ کر بیٹھنے کے علاوہ مسجد میں جاتے آتے وقت بھی ضرور خیریت پوچھ کر اور باتیں کر کے جاتے۔اپنے دل کا ہر درد دکھ حضرت اماں جان سے بیان کرتے اور حضرت اماں جان کی دُعا، پیارو محبت کی تسلی سے تسکین پاتے۔حضرت اماں جان کی ملازمہ تک کو ادب سے پکارتے اور اُن کا ہر طرح خیال رکھتے تھے جب کسی بڑھیا یا بے تکلف خادمہ سے مذاق بھی کرتے تو بڑے ہی انکسار سے کہ سب ہنس دیتے اور وہ نادم سی ہو جاتی۔ابتداء سے ہی جب آمدنی کم اور گزارا اپنا بھی مشکل ہوتا تھا ضرور ہر ماہ چپکے سے کچھ رقم حضرت اماں جان کے ہاتھ میں ادب اور خاموشی سے دے جاتے۔آپ کو کوئی حاجت نہ تھی مگر اُن کی دلداری کے خیال سے واپس نہیں کرتی تھیں، ہر وقت لتاں جان کے آرام کا خیال اور خدمت کی تڑپ اس معاملہ میں وہ بالکل بڑے بھائی کے نقش قدم پر چلے۔