مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 33 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 33

حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 33 بہت زیادہ آپ کے دل میں تھی اس کی والدہ کی معمولی ناراضگی سُن کر برداشت نہ فرما سکا اور خو د لا کر اس کی ماں کے قدموں میں جھکا دیا گویا یہ سمجھایا کہ تمہارا رتبہ بڑا ہے مگر یہ ماں ہے تمہارے لئے بھی اس کے قدموں تلے جنت ہے۔(19) اپنی اولاد کی طرح اپنی بہوؤں سے بھی آپ بہت شفقت بھرا سلوک فرماتے۔ایک دفعہ حضرت بڑے بھائی حضرت مصلح موعود کی نسبت کسی گھر کے خیالات سن کر عورتوں میں مشہور ہو گیا کہ شاید جو وہ لوگ چاہتے ہیں اور رشتہ اس خاص لڑکی سے ہو ہی جائے۔بڑی بھا بھی جان مغموم ہو گئیں کسی سے سن کر اور شاید رو پڑی تھیں کسی نے ذکر کیا تھا۔میں نے سنا مغرب کا وقت آپ علیہ السلام وضو کو اُٹھے بھا بھی جان نے لوٹا آپ کے ہاتھ سے پکڑ لیا اور پانی ڈالنے لگیں ، میں پاس کھڑی تھی ، آپ نے کہا:۔فکر نہ کر محموده ! میری زندگی میں تم پر سوکن نہیں آسکتی۔“ یہ آپ کے الفاظ تھے کیسے پورے ہوئے (الہی منشاء پورا ہونا تھا وہ ہو کر رہا مگر آپ کے بعد منجھلی بھا بھی جان مرحومہ بیاہی آئیں۔وہ ذرا شوخ تھیں۔مائی تابی ، جس کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت خاطر منظور