مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 100
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 100 ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا ، بلکہ ہمیشہ اپنے میاں کو بہت عزت دی، ان کا بے حدادب کیا ، جن باتوں کو وہ پسند نہ کرتے ہمیشہ ان کا خیال رکھا ، ہمیشہ سامنے بھی اور غیر حاضری میں بھی ان پر عمل کیا۔اپنے بچوں کو بھی یہی کہتیں کہ دیکھو! تمہارے ابا میاں کو یہ بات پسند نہیں اس کا خیال رکھو، ان کے ہر حکم اور ہر خواہش پر شرح صد سے عمل کرتی تھیں۔کہا کرتی تھیں بہت سی باتیں میں نے میاں سے سیکھی ہیں، کبھی کسی بات کا نقص نہ نکالتے بلکہ بڑی نرمی سے بہت اچھے طریقے سے بات سمجھا دیتے۔آپ ایک وفاشعار اور خدمت گزار بیوی تھیں اور خاص طور پر نواب صاحب کی آخری بیماری میں تو اس قدرخدمت کی جس کی مثال دینا مشکل ہے، دن رات ایک کر دیئے ، ایک پل بھی آرام نہ کرتیں۔اللہ تعالیٰ کی ہستی پر کامل ایمان و یقین تھا ، بڑی محبت اور جانثاری کے جذبے سے اس کے احسانوں کا ذکر کرتیں کہا کرتیں :۔ے کوئی اس کو نہ جب تک چھوڑے کسی کو خو دنہیں و ہ چھوڑتا ہے نہ کیوں سو جان سے دل اس پر فدا ہو کہ وہ محبوب ہی جان و فا ہے جب تک بھی دعا کے لئے ہاتھ اٹھے اپنے محبوب خدا کی حمد سے دل بھر آیا