مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 67 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 67

حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 67 بھی کہ آدھا لطیفہ یا ایک مصرعہ شعر کا سنا کر فرماتے ” آگے میں بھول گیا مجھے آدھی بات سے گھبراہٹ ہوتی ہے، مذاق میرے ساتھ ہمیشہ رہا پھر ذرا چڑا کر سنا دیتے تھے۔ایک دو بار بے تکلفی میں گستاخی مطلب نہ تھا میں نے آپ کے اشعار میں سے ایک دو مصرعوں کا رد و بدل کر دیا یوں ہوتا تو اچھا ہوتا ، ذرا بُرا نہیں مانا ، فرمانے لگے اب تو چھپ گیا ہے! بہت شوق سے مجھے نئے اشعار سناتے۔ایک دفعہ مجھے پوچھا تم کو کلام محمود میں سے کون سا شعر زیادہ پسند ہے؟ (ایڈیشن اول تھا) میں نے کہا حقیقی عشق گر ہوتا تو کمی جستجو ہوتی تلاشِ یار ہر ہر دہ میں ہوتی کو بکو ہوتی اس پر خوشی کا اظہار فر مایا۔(48) ایک لطیفہ یاد آ گیا ایک دن میں نے بتا دیا کہ منصورہ کہتی ہے کہ یہ ماموں جان نے (چھوٹے ماموں جان) حضرت میر محمد اسحاق کی شادی پر کیسا شعر کہہ دیا ہے۔”میاں اسحاق کی شادی ہوئی ہے آج اے لوگو معلوم ہوتا ہے دہائی میل رہی ہے لوگو آؤ دوڑو۔آپ بے اختیار ہنس دیئے۔فرمایا ”خبر لوں گا بڑی شریر ہے ایک دفعہ میں نے کہا کہ آپ کے