مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 30 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 30

حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 30 50 کا دیکھ سکوں گا ؟ یہ الفاظ آپ علیہ السلام کے منہ سے نکل رہے تھے اور رقت طاری تھی گوشہائے چشم سے آنسو بہہ رہے تھے جن کو آپ علیہ السلام انگلی سے صاف کرتے جاتے تھے۔میں آپ علیہ السلام کے سرہانے ایک طرف آپ علیہ السلام کے تکیہ پر ہی بیٹھی تھی آپ علیہ اسلام کا بے حد درد بھرے لہجے سے وہ فقرہ کہنا اور آنسو بہہ نکلنا مجھے کبھی نہیں بھول سکا۔(17) آپ علیہ اسلام کی ایک چشم دید الہامی کیفیت کا ذکر کروں گی۔ایک دن دو پہر کو کھانے سے قبل یا بعد میں ٹھیک یاد نہیں) آپ علیہ السلام حجرہ میں آرام فرما رہے تھے۔حضرت والدہ صاحبہ (حضرت اماں جان) اس وقت باہر احمدی خواتین کے پاس تھیں میں جا کر آپ علیہ السلام کے پلنگ پر بیٹھ گئی۔بیوقوفی سمجھ لیں یا خوش قسمتی میں نے آپ علیہ السلام کی پنڈلیوں پر دبانے کی نیت سے ہاتھ رکھ دیا۔اس وقت آپ علیہ اسلام سید ھے لیٹے ہوئے تھے۔یکا یک ایک عجیب کیفیت طاری ہوئی جو بیان میں نہیں آسکتی۔آپ علیہ السلام کی پنڈلیاں تھر تھر کا نچنے لگیں۔چہرہ پر ایک بہت خاص چمک اور سرخی پیشانی پر پسینے کے قطرے کھڑے ہو گئے ہونٹ حرکت کرنے لگے جیسے کوئی غیر مرئی طاقت ان کو جنبش میں لا رہی ہے نہ کوئی تکلیف کی نہ کرب کی علامت تھی معلوم ہو رہا تھا کہ کسی طاقت کا اُس وقت آپ پر تصرف ہے ، جو ایک خاص