محسنات — Page 213
213 قربانی نہیں بنایا کرتی۔وہ ولولے وہ جذ بے وہ پچھلتی ہوئی روح جو قربانی کو پیش کرنے کے لئے بے قرار ہوا کرتی ہے وہی ہے جس سے قربانی کے معیار بنتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ احمدی عورتوں نے جرمنی کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے اور جرمن قوم کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین میں داخل کرنے کی خاطر خدائے تعالیٰ کے حضور جو قربانیاں پیش کی ہیں ان سے اگر چہ وہ ( بیت ) تو نہ بن سکی ( بعض ناگزیر وجوہات کی بناء پر جرمنی میں اُس وقت ( بیت) نہ بن سکتی تھی لہذا وہ رقم ( بیت ) فضل لندن کی تعمیر پر خرچ کی گئی مگر یہ قربانیاں ہمیشہ زندہ رہیں گی اور میں یہ سمجھتا ہوں یہی وہ قربانیاں ہیں جنہوں نے آئندہ آنے والی احمدی نسلوں کے لئے رفتار کے وہ معیار مقرر کر دیے تھے جن پر آج بھی جماعت احمدیہ کی عورتیں اُسی دُھن کے ساتھ اُسی جذبے کے ساتھ اُسی ولولے کے ساتھ گامزن ہیں۔“ پھر فرمایا : - (مصباح جولائی 1992ء صفحہ 11-12) ” جب (بیت) کوپن ہیگن کی تحریک ہو رہی تھی اور عورتیں جس طرح و والہانہ طور پر سب کچھ حاضر کر رہی تھیں تو اتفاق سے ایک غیر احمدی عورت بھی وہاں بیٹھی یہ نظارہ دیکھ رہی تھی اس نے یہ تبصرہ کیا کہ ہم نے دیوانہ وار لوگوں کو پیسے لیتے دیکھا ہے لیکن دیوانہ وار لوگوں کو پیسے دیتے بھی نہیں دیکھا۔یہ آج احمدی عورتوں نے ہمیں بتایا ہے کہ پیسے لیتے ہوئے جوش نہیں ہوا کرتا اصل جوش وہ ہے جو پیسے دیتے وقت دکھایا جائے۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ وہ زندگی کی علامت ہے جس نے احمدی خواتین کو سب دنیا میں ممتاز کر دیا ہے۔“ 66 نائیجریا میں جب حضرت امام جماعت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے تحریک فرمائی تو ایک خاتون نے 25 ،30 ہزار پاؤنڈ پیش کئے۔آپ نے فرمایا : - ”میرے علم میں افریقی ممالک کا کوئی اکیلا فرد بھی ایسا نہیں جس نے بیک