محسنات

by Other Authors

Page 180 of 286

محسنات — Page 180

180 بیوہ نے جس صبر ورضا کا نمونہ دکھایا ہے شاذ ہی ایسے دلگد از مواقع پرممکن ہے۔اپنے مضمون کی ابتداء میں قاتلوں کا بے وقت گھر کے اندر آ کر کلاشنکوف کے فائر کر کے ڈاکٹر نسیم بابر کو خون میں نہلا نا اور پھر ہسپتال لے جانے سے لے کر وفات کا تذکرہ کیا ہے۔پھر اسپتال سے گھر آکر بچوں کا خیال۔لکھتی ہیں :- میں ساری رات بچوں کے کمرے میں اُن کے سرہانے بیٹھی رہی اُس وقت مجھے یہ احساس تھا کہ گھر میں غیر معمولی کیفیت دیکھ کر روتی آنکھوں اور چیخوں سے وہ خوفزدہ نہ ہو جائیں۔صبح معمول کے مطابق بچے اُٹھے۔بیٹے سنی نے مجھے خلاف معمول سرہانے پا کر ایک دم پوچھا امی پاپا کہاں ہیں؟ میں نے بہت آہستہ سے دونوں بچوں کو سمجھایا کہ رات آپ کے پاپا اللہ میاں کے پاس چلے گئے ہیں کیونکہ اُن کی عمر ختم ہو گئی تھی۔ہمیں بھی اپنی عمر ختم کر کے اللہ میاں کے پاس جانا ہے۔پھر میں نے انہیں بتایا کہ آپ کے پاپا اللہ میاں کی راہ میں قربان ہو گئے ہیں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔یہ آپ کی خوش قسمتی ہے۔گھبرانے والی بات نہیں۔دونوں بچے جو پہلے رو پڑے تھے آنسو پونچھ کر مسکرانے لگے اور گھر میں آئے ہوئے لوگوں سے ملنے لگے۔بابر کو بڑے اعزاز سے ربوہ میں دفن کی گیا۔زندگی معمول پر آنے لگی اور اُس کے ساتھ ہی میرے اور میرے خدا کے درمیان وہ عجیب تعلق پیدا ہوا جو شاید میں پوری طرح الفاظ میں کھل کر بیان بھی نہ کر سکوں۔اس تعلق کو سمجھنا بھی ہر ایک کے لئے ممکن نہیں۔کیونکہ میں جانتی ہوں کہ جب تک یہ سب واقعہ مجھ پر نہیں گذرا تھا میں بھی بندے اور خدا کے درمیان اس خاص تعلق کو پوری طرح محسوس نہیں کر سکتی تھی۔شاید مجھ جیسے لوگوں کے لئے ہی یہ کہا گیا ہے:۔خدا مجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں