محسنات — Page 114
114 پس خدمت دین کے لئے اس اہم موقعہ کو جو تم کو صدیوں کے بعد نصیب ہوا ہے۔ضائع مت کرو اور اپنے گھروں کو خدا کی برکتوں سے بھر لو۔“ (از اخبار الفضل 6 جنوری 1961ء) اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو خدمت دین کے لئے وہی نوجوان آگے آسکتا ہے جس نے اپنے گھر میں دین کو دُنیا پر مقدم ہوتے ہوئے دیکھا ہو۔جس نے ایسی ماں کی گود میں پرورش پائی ہو جو دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شیدائی ہو اور احمدیت یعنی حقیقی (دین) کو اکناف عالم میں پھیلا دینے کی ایک بے تاب تمنا اپنے دل میں رکھتی ہو۔جس نے ایسی ماں کا دودھ پیا ہو جو عشق خدا اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے سرشار ہو۔اور جو دین کی سر بلندی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہو۔حضرت فضل عمر نے اپنے 13 فروری 1947 ء کے خطاب میں اس عظیم قربانی کی بڑی اچھی مثال دی ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔" جس طرح بھڑ بھونجا اپنی بھٹی میں پتے ڈالتا ہے۔اسی طرح ہمیں بھی اپنے آدمی دین کی بھٹی میں ڈالنے ہوں گے۔تب کہیں ( دینِ حق ) کامیاب ہوگا۔“ (الفضل 30 جون 1961ء) چنانچہ ہر وہ عورت جو صیح معنوں میں احمدی ہے بانی احمدیت کی تعلیم پر عمل پیرا ہے وہ مبلغہ ہے اور تمام زندگی اپنے قول، فعل اور عمل سے تبلیغی جہاد میں مصروف رہتی ہے۔ایسی ہی صالح خواتین اپنے گھر میں بھی اعلیٰ نمونہ کی حامل ہوتی ہیں۔احمدیت کی تاریخ شاہد ہے کہ بہت سی نیک اور متقی ماؤں نے ایسے رنگ میں بچوں کی تربیت کی کہ سن شعور کو پہنچ کر خود بخود وہ اپنی زندگی دین کے لئے وقف کرنے کو تیار ہو گئے۔جہاں اس مادہ پرست معاشرہ میں آج کی نئی نسل عیش و