محسنات

by Other Authors

Page 133 of 286

محسنات — Page 133

133 خدا کا نام پھیلانے والوں میں ہمارا نام بھی ہو۔میں جب سے یہاں آئی ہوں کس طرح دن گزرتے ہیں اور کس طرح ستارے گنتے گنتے راتیں کٹتی ہونگی لیکن زبان سے اگر کوئی لفظ نکلتا ہے تو یہی کہ اے قادیان کی بستی ! تجھ پر لاکھوں سلام اور اے قادیان میں رہنے والے جانباز و! تم پر لاکھوں ڈر دو!“ سیالکوٹ کے ایک احمدی نوجوان غلام احمد صاحب ابن مستری غلام قادر صاحب جو قادیان کی بستی کی حفاظت کے لئے سیالکوٹ سے گئے تھے۔ان کی والدہ نے ان کے نام خط لکھا جو دراصل ان کی قربانی کی پیش گوئی بن گیا۔وہ بھتی ہیں کہ بیٹا اگر ( دینِ حق ) اور احمدیت کی حفاظت کے لئے تمہیں لڑنا پڑے تو کبھی پیٹھ نہ دکھانا۔اس سعادت مند خوش قسمت نوجوان نے اپنی بزرگ والدہ محترمہ حسین بی بی صاحبہ کی اس نصیحت پر اس طرح عمل کیا کہ قادیان میں احمدی عورتوں کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان دے دی۔مگر دشمن کے مقابلے میں پیٹھ نہ دکھائی۔مرنے سے پہلے اس نوجوان نے اپنے ایک دوست کو اپنے پاس بلایا اور اپنے آخری پیغام کے طور پر یہ لکھوایا۔مجھے ( دین حق ) اور احمدیت پر پکا یقین ہے۔میں ایمان پر قائم جان دیتا ہوں۔میں اپنے گھر سے اسی لئے نکلا تھا کہ میں ( دینِ حق ) کے لئے جان دونگا۔آپ لوگ گواہ رہیں کہ میں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور جس مقصد کے لئے جان دینے کے لئے آیا تھا۔میں نے اس مقصد کے لئے جان دیدی۔جب میں گھر سے چلا تھا تو میری ماں نے نصیحت کی تھی کی بیٹا دیکھنا! پیٹھ نہ دکھانا۔میری ماں کو کہہ دینا کہ تمہارے بیٹے نے تمہاری نصیحت پوری کر دی اور پیٹھ نہیں دکھائی اور لڑتے ہوئے مارا گیا۔کتنے بیٹے ہیں جنکی (قربانی) کے فیض میں اُن کی مائیں ، بہنیں ، بیویاں شامل ہوا کرتی تھیں۔اُن کے فیض سے جو ثواب عطا ہوتا ہے۔اس میں وہ شامل ہوتی