محسنات — Page 122
122 کی ہیں ان کا ذکر خود فضل عمر ان الفاظ میں فرماتے ہیں ” مجھے یاد ہے جب ہم نے درد صاحب کو ولایت بھیجا ہے تو ان کی تنخواہ (100) ایک سو روپیہ ماہوار تھی۔چندہ اور دوسری کٹوتیوں کے بعد انہیں ساٹھ روپے ماہوار ملتے تھے۔(اس سے بھی اندازہ کریں کہ اُس زمانہ کے واقفین چندہ میں کتنا حوصلہ دکھایا کرتے تھے۔وسیع قلہ کے ساتھ چندہ دیا کرتے تھے) جس میں سے بڑا حصہ وہ اپنی والدہ کو بھیج دیتے تھے۔ان کی دو بیویاں تھیں اور ان میں سے ہر ایک کے چار چار پانچ پانچ بچے تھے وہ ہمارے مکان کے ایک حصہ میں جو کچا تھا جس میں آج کل کے کلرک بھی رہنا پسند نہیں کرتے ، رہتی تھیں۔مجھے یاد ہے اور مجھے معلوم کر کے سخت صدمہ ہوا کہ ان کی بیویوں کے حصہ میں چار چار ، پانچ پانچ بچوں سمیت صرف 14،14 روپے ماہوار آتے تھے۔ان کی بیوی کا ایک بھائی جلد ساز تھا جس کے پاس فرمہ شکنی کے لئے جب کوئی کتاب آتی تو وہ خود اور دوسری بیوی فرمے تو ڑ تو ڑ کر کچھ رقم پیدا کرلیا کرتی تھیں۔جس سے ان کا گزارہ ہوتا تھا۔حضرت فضل عمر نے 1956ء میں لجنہ کے سالانہ اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا:- ہمارے کئی مربی ایسے ہیں جو دس دس پندرہ پندرہ سال تک بیرونی ممالک میں فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہے اور وہ اپنی نئی بیاہی ہوئی بیویوں کو پیچھے چھوڑ گئے۔ان عورتوں کے بال اب سفید ہو چکے ہیں لیکن انہوں نے اپنے خاوندوں کو کبھی یہ طعنہ نہیں دیا کہ وہ انہیں شادی کے بعد چھوڑ کر لمبے عرصہ کے لئے باہر چلے گئے تھے ہمارے ایک مبلغ مولوی جلال الدین صاحب شمس ہیں وہ شادی کے تھوڑا عرصہ بعد ہی یورپ چلے گئے تھے ان کے واقعات سن کر بھی انسان کو رقت آجاتی ہے۔ایک دن اُن کا بیٹا گھر آیا اور اپنی والدہ سے کہا کہ امی ابا کسے کہتے ہیں۔ہمیں پتہ نہیں ہمارا ابا کہاں