محسنات — Page 70
70 اسکول کے معائنہ کے موقع پر انسپکٹریس کو تحفہ شہزادہ ویلز ، سواغ مسیح موعود اور فلسفہ اسلام تین کتابیں بطور ہدیہ پیش کیں جن کو انہوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔“ حضرت سیده ساره بیگم صاحبہ حرم حضرت خلیفہ اسیح الثانی بھاگلپور کے ایک نہایت معزز اور علمی خاندان میں پیدا ہوئیں۔آپ نے علم وادب کے ماحول میں آنکھ کھولی۔اس لئے بچپن ہی سے تحصیل علم کا شوق تھا۔چودہ پندرہ سال کی عمر تک آپ نے اپنے عالم باعمل والد محترم سے عربی اور فارسی سیکھی صحیح بخاری اور قرآن مجید کا ترجمہ بھی پڑھا ہوا تھا۔سلسلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پر بھی کافی عبور حاصل تھا۔آپ کا نکاح سید نا حضرت فضل عمر سے 12 اپریل 1925ء کو ہوا۔آپ سے نکاح کی غرض حضور کی یہ تھی کہ تعلیم نسواں کی وہ اسکیم جو حضرت سیدہ امتہ الحئی بیگم صاحبہ کی وفات کی وجہ سے تعطل میں پڑ گئی تھی اُس پر عمل کیا جاسکے۔حضرت سیدہ سارہ بیگم صاحبہ بھی اپنا مشن جانتی تھیں چنانچہ چند دن کی دُلہن نے پڑھائی شروع کر دی اور تا دم مرگ حصول علم میں لگی رہیں تا کہ اپنے آپ کو اس اعلیٰ مقصد کے حصول کے لئے تیار کر سکیں۔چنانچہ آپ نے پوری محویت سے آرام اور صحت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پڑھنا شروع کر دیا اور جلد ہی ادیب، مولوی اور انٹرنس کے امتحان پاس کر لئے۔ایف-اے کا امتحان بھی دیا لیکن نتیجہ آنے سے پہلے ہی فوت ہو گئیں۔اچھی خاصی زود نویسں تھیں۔تحریر بھی بہت اچھی تھی۔حضور کے اکثر مضامین تیزی سے لکھتی تھیں اور خود بھی عورتوں کی فلاح و بہبود کے سلسلہ میں اکثر مضامین رسائل میں لکھا کرتیں۔حضرت سیدہ صاحبہ مرحومہ اوصاف حسنہ سے متصف تھیں نہایت نیک، پر ہیز گار، صوم وصلوٰۃ کی پابند تھیں۔اپنے اوقات کا اکثر حصہ تعلیم کے حصول کے لئے