محسنات — Page 267
شاعرہ ہیں۔نمونہ کلام : 267 دل کے بند در بیچوں میں اک درد بسایا ساری رات آج کسی تقصیر نے مجھ کو خوب رُلایا ساری رات اک شب قدر ملی جو میں نے غفلت میں کھودی آنکھوں نے پھر اکثر ہی رتجگا منایا ساری رات ارض وسما کے فاصلے طے کر پاتا کیسے نازک دل تو شہہ رگ سے پاس تھا مولا کیوں تڑپایا ساری رات سے سب کو سُنا کر کیا لینا ہے سوجاؤ خاموشی عظمت اُس نے سُن تو لیا ہے جس کو سنایا ساری رات مکرمہ امۃ القدیر ارشاد صاحبه: مکرمہ امتہ القدیر ارشاد صاحبہ نے سنجیدہ شعر گوئی کے ساتھ پر لطف مزاحیہ شاعری بھی کی ہے۔یادِ ماضی کے عنوان سے ایک نظم کے چند بند یوں ہیں۔آج بھی مجھ کو وہ کالج کا زمانہ یاد ہے اُن کی شفقت یاد ہے اپنا ستانا یاد ہے آئے دن جرمانے کھا کر بھول جانا یاد ہے ہر بہانہ یاد ہے ہر اک فسانہ یاد ہے اے ہمارے جامعہ عرفان و حکمت کے چمن یاد آتے ہیں کبھی تجھ کو بھی یاران کہن؟ ہوٹل میں چھپ کے کھانے کا مزا بھولا نہیں اور یہ بھی ڈر کہ واللہ وہ نہ آجائیں کہیں