محسنات — Page 240
240 سلسلہ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے آپ نے فرمایا :- اس قسم کی جاہل عورتیں جو اس دنیا میں بھی نہ صرف اپنی نسل کے لئے بلکہ آئندہ نسلوں کے لئے جہنم پیدا کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہیں وہ مائیں جن کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے پاؤں تلے جنت ہے وہ یہ مائیں نہیں یہ وہ مائیں ہیں جو ایسی بدنصیب ہیں کہ جن کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنت کی خوشخبری یا جنت کی تمنا کی لیکن اس کے باوجود اُن کی بدبختی ان کے پاؤں تلے سے اُن کی اولاد کے لئے جہنم پیدا کرنے کا موجب بن گئی اور سارے معاشرے کو دکھوں سے بھر دیا۔ایسی عورتیں شاذ کے طور پر نہیں ملتیں بلکہ بڑی بھاری تعداد میں آج دنیا میں موجود ہیں۔پاکستان کے اخباروں میں ہندوستان کی بعض مظلوم لڑکیوں کا تو ذکر ملتا ہے جو جہیز نہ ملنے کے نتیجہ میں زندہ جلا دی گئیں لیکن پاکستان میں لاکھوں کروڑوں ایسی بدنصیب لڑکیاں ہیں جو زندہ تو نہیں جلائی جاتیں بلکہ زندہ درگور کر دی جاتی ہیں اُن کی ساری زندگی جہنم بن جاتی ہے۔،، حضور اقدس نے بعد ازاں ایک مثالی ساس کا تذکرہ فرمایا:- بہت سے ایسے واقعات میرے علم میں ہیں۔ایسی ساسیں جن کی بہوئیں اُن کو دعائیں دیتی ہیں اور اُن کا گھر خدا کے فضل سے جنت نشان بن جاتا ہے ایسی ہی ایک نیک خاتون ابھی کچھ عرصہ پہلے لاہور میں فوت ہوئیں اُن کی بہو مجھے ملنے