محسنات

by Other Authors

Page 179 of 286

محسنات — Page 179

179 مائیں جن کے بیٹے اور بہنیں جن کے ویر خدا کی راہ میں مارے گئے یہ سب قربانیوں میں شامل ہیں اور عورتیں ہرگز قربانیوں میں مردوں سے پیچھے نہیں ہیں۔“ خطبہ جمعہ فرمودہ 20 / جون 1986ء) محتر مہ رخسانہ صاحبہ کے علاوہ مندرجہ ذیل احمدی خواتین نے بھی راہِ وفا میں جان کا نذرانہ پیش کیا:- -1 -2 -3 -4 اہلیہ محترمہ حاجی میراں بخش صاحب انبالہ اگست 1940ء محترمہ رشیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ قاری عاشق حسین صاحب سانگلہ ہل ور اگست 1978ء محترمہ ایڈوٹ صاحبہ جماعت چیانڈرم، انڈونیشیا اندازاً 1948ء محتر مہ اویسہ صاحبہ جماعت چیانڈرم، انڈونیشیا اندازاً 1950ء (ماخوذ از مجله صد ساله جشن تشکر لجنہ اماءاللہ ربوہ صفحہ 81) -5- مکرمہ مبارکہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم محمد سلیم بٹ صاحب چونڈہ پاکستان کے بارے میں الفضل 19 جون 1999 ، صفحہ 1 کالم 4 پر لکھا ہے:۔" آپ 2 مئی کو دعوت الی اللہ کے سلسلہ میں قریبی گاؤں ڈوگراں گئی تھیں۔ایک نو مبائع مکرم عابد صاحب کے گھر میں بیٹھی تھیں کہ ایک مخالف نے چھری سے وار کر کے شدید زخمی کر دیا۔ہسپتال میں 13 بوتلیں خون دیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکیں اور ورمئی 1999 ء کو خدائے تعالیٰ کی راہ میں قربان ہوگئیں۔“ شہدائے احمدیت میں ڈاکٹر نسیم با بر صاحب ( جو اسلام آباد یونیورسٹی میں فزکس کے پروفیسر تھے ) بھی مذہبی تعصب اور ( دینِ حق ) کے نام لیواؤں کی سنگدلی کا شکار ہوئے۔سب سے بڑا بچہ 8 سال کا دوسرا 6 سال کا اور تیسرا صرف 2 سال کا تھا جب انسان نما بھیڑیوں نے اُن کے باپ کو اور باپ کی انمول شخصیت کو ہمیشہ کے لئے اُن سے چھین لیا۔مکرمہ بیگم نسیم بابر نے اپنے تاثرات کو قلم بند کیا ہے۔اُس جوان