محسنات

by Other Authors

Page 174 of 286

محسنات — Page 174

174 سے مجھے صبر کی تو فیق دی۔سیہ وہ داستانیں ہیں جن سے احمدیت زندہ ہے۔شہید خود بھی زندہ ہوتے ہیں اور اُن قوموں کو بھی زندہ کر جاتے ہیں جن سے وہ وابستہ ہوتے ہیں۔اُن کی زندگی کی گواہی جو قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے۔اُس کے ہم سب گواہ ہیں۔حقیقت میں شہیدوں کی زندگی سے قو میں زندگی پا یا کرتی ہیں۔۔جو شہید کا مرتبہ پانے والے ہیں وہ بھی مرنہیں سکتے۔آسمان کا خدا گواہ ہے کہ آپ ہمیشہ کے لئے زندہ ہیں اور آپ ہی کی زندگی سے آپ کے بعد پیچھے رہنے والی قومیں زندہ رہیں گی۔اور اسی کا فیض پاتی رہیں گی۔(ماخوذ از مصباح اکتوبر 1994ء صفحہ 5 تا16) حضور انور نے 26 اگست 1994 ء کو جرمنی کے سالانہ جلسہ میں مستورات سے خطاب فرماتے ہوئے فرمایا:- مگر مه نسیم لطیف صاحبہ جمال پورسندھ سے لکھتی ہیں کہ 24 یا25 مئی 1985ء کا دن تھا کہ عصر کی نماز کے بعد ہماری گوٹھ جمال پور کو سکھر کی پولیس نے گھیرے میں لے لیا اور میرے شوہر لطیف صاحب اور آپ کے والد کو بھی گرفتار کر کے لے گئے اور کہا کہ جب تک ایوب نہیں ملتا آپ دونوں ہماری حراست میں رہیں آخر جب ایوب پکڑا گیا تو اُس کو ساری رات اُلٹا لٹکاتے تھے۔اور ساتھ ڈنڈوں اور جوتوں سے مارتے تھے اور جھوٹ بولنے پر مجبور کرتے تھے کہ بتاؤ وہ کون ہے جس نے مولویوں کے مدرسے کو آگ لگائی تھی۔یا بم پھینکا تھا۔تو جب وہ کہتا کہ مجھے علم نہیں تو پھر مارنا شروع کر دیتے۔یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہو جاتا۔بعد میں جب ایوب سے میں نے پوچھا کہ تم اتنی اذیت برداشت کس طرح کرتے تھے؟ تو اُس نے بتایا کہ آپ کو سُن کر جتنی تکلیف ہو رہی ہے مجھے اُس سے کم ہورہی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کچھ ایسا فضل کر دیا تھا کہ باوجود اُلٹا لٹکنے کے اور شدید زدوکوب کے