محسنات — Page 135
135 تین ہفتے بعد لوٹا۔لیکن کبھی بھی عدم تعاون کا اظہار نہیں کیا۔یہ شکوہ نہیں کیا کہ آپ مجھے سے یہ کہا کرتے ہیں مجھے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور بتاتے بھی کچھ نہیں۔میں سلسلہ کے کام کیا کرتا تھا۔تو بہت سی ایسی باتیں تھیں جن کا اشارہ بھی ذکر نہیں کیا کرتا تھا۔میں نے انہیں کہا میں تو جماعتی کاموں کو اور گھر کے معاملات کو الگ الگ رکھتا ہوں اور میں پسند نہیں کرتا کہ مجھ پر جو جماعتی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں میں ان کا گھر والوں سے ذکر کروں۔اس طرح پھر گھروں کے دخل شروع ہو جاتے ہیں اور پھر تبصرے اور بہت سے باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔اس طرح میرے کاموں پر غلط اثر پڑنے کا خطرہ ہے۔۔تو اس بات کو پھر ہمیشہ قبول کئے رکھا اور وفات کے دن تک کبھی بھی جماعتی کاموں میں دخل اندازی کی نہ کوشش کی نہ مجھ سے جستجو کی نہ مشورے دیئے۔رفتہ رفتہ جماعت کی خواتین سے تعلق بہت بڑھ گیا اور خاص طور پر ترک وطن کے بعد بہت زیادہ وسیع تعلق ہوا ہے۔آسٹریلیا میں نجی میں ، سنگا پور میں پھر یورپ کے سب ممالک میں، کینیڈا میں امریکہ میں جہاں جہاں گئیں بہت ہی انکساری کے ساتھ خواتین سے ملتی تھیں اور ایک ایسی خوبی جو فطرتاً ودیعت ہوئی تھی اس میں کوئی تکلف نہ تھا۔اپنے آپ کو کسی معنوں میں بھی بڑا نہیں سمجھا اور ہر ایک سے برابر محبت و پیار سے ملتی تھیں۔خاص طور پر انگلستان کی خواتین سے تو بہت ہی تعلق تھا اور کہا کرتی تھیں کہ ان کے بہت ہی احسانات ہیں۔بہت خدمت کی ہے۔آخری دور میں دعاؤں کی طرف، نیک باتوں کی طرف ، ذکر الہی کی طرف بہت ہی توجہ رہی اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آخری دنوں میں پوری طرح بغیر کسی تردد بغیر کسی استثناء کے کامل طور پر راضی برضا ہو چکی تھیں اور اپنے آخری