محسنات

by Other Authors

Page 127 of 286

محسنات — Page 127

127 صاحبہ اہلیہ منصور بشیر صاحب ساڑھے گیارہ سال۔باقی چونکہ سینکڑوں مربی ہیں۔سینکڑوں بیویاں ہیں جنہوں نے جدائی میں مختلف وقت کاٹے ہیں اُن کی ساری قربانیوں کا تذکرہ تو ممکن ہی نہیں یہ چند نمونے آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں کس جذبے کے ساتھ ، کس ولولے کے ساتھ ماؤں نے اپنے بچے پیش کئے تھے اور اُن کی جدائیاں برداشت کیں۔اُن کا ذکر بھی بڑا طویل ہے۔ابھی تو آپ نے بیویوں کی قربانیاں سنی تھیں۔ماؤں کا بھی یہی حال تھا۔ایک تازہ نمونہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔مقبول احمد صاحب ذبیح ایک لمبے عرصے سے باہر تھے ، ان کی والدہ جنہوں نے 1983ء میں وفات پائی ہے وہ بستر مرگ پر تھیں اپنی بیماری کے دنوں میں وہ اپنے بیٹے مقبول احمد صاحب ذبیح کو بہت یاد کرتی تھیں۔اس سے متاثر ہوکر ان کے دوسرے عزیزوں نے ایک دن عرض کیا کہ ہم حضور اقدس کی خدمت میں درخواست کریں کہ ابا جان کو بلا لیا جائے تو فرمایا نہیں ! میں نے اپنے بیٹے کو وقف کیا ہے۔میں یہ مطالبہ کر کے وقف کی رُوح کے خلاف نہیں کرنا چاہتی۔جب حضور خود چاہیں گے بلالیں گے۔بلکہ اپنی بیماری کی بھی مجھے اطلاع نہیں دی تا کہ ان کی وجہ سے میری پریشانی سلسلہ کے کاموں میں روک نہ بن سکے۔یہ درست ہے کہ جب بھی کسی بیمار ماں یا بیمار بیوی کے متعلق مجھے اطلاع ملتی ہے تو بلا تاخیر میں ان کے بچوں یا خاوندوں کو واپس جانے کا حکم دیتا ہوں ، چاہے وہ پسند کریں یا نہ کریں ان کو جبر اواپس بھجوایا جاتا ہے۔ورنہ اس سے میرے دل کو بڑی گہری تکلیف پہنچتی ہے اور اب جماعت اللہ کے فضل سے بہت توفیق پاچکی ہے اب کوئی وجہ نہیں کہ بے وجہ قربانیاں کھیسٹی جائیں۔قربانیاں دینے کا وہ جو عظیم دور تھا وہ اور رنگ کی قربانیاں تھیں۔اب جماعت اور رنگ کی قربانیوں میں داخل ہوگئی ہے۔