محسنات

by Other Authors

Page 47 of 286

محسنات — Page 47

47 ہوئی تو آپ کے والد ماجد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔عاشقِ قرآن باپ کی عاشق قرآن بیٹی نے یہ صدمہ حوصلے سے برداشت کیا اور وفات کے تیسرے دن اس کم سن محسنہ نے اپنے جلیل القدر باپ کے جلیل قدر جانشین کو رقعہ لکھا۔گزارش ہے کہ میرے والد صاحب نے مرنے سے دو دن پہلے مجھے فرمایا کہ ہم تمہیں چند نصیحتیں کرتے ہیں۔میں نے کہا فرما ئیں میں انشاء اللہ عمل کروں گی۔تو فرمایا بہت کوشش کرنا کہ قرآن آجائے اور لوگوں کو بھی پہنچے۔اور میرے بعد اگر میاں صاحب خلیفہ ہوں تو ان کو میری طرف سے کہہ دینا کہ عورتوں کا درس جاری رہے اور میں امیدوار ہوں آپ قبول فرمائیں گے۔میری بھی خواہش ہے اور کئی عورتوں اور لڑکیوں کی بھی خواہش ہے کہ میاں صاحب درس کرائیں۔آپ برائے مہربانی درس صبح ہی شروع کر دیں۔میں آپ کی نہایت مشکور ہوں گی۔“ ( ہر اول دستہ صفحہ 55) حضرت مصلح موعود کا اُس وقت عورتوں میں درس دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔لیکن اپنے استاد اور آقا کی وصیت کے مطابق عورتوں میں درسِ قرآن شروع کیا اور اس تڑپ سے تحریک کرنے والی کی دینی تعلیم وتربیت کر کے جماعت کی خواتین کے لئے نمونہ بنانے کے لئے آپ نے محترمہ امتہ احئی صاحبہ سے شادی کا فیصلہ کیا جو آپ کی توقعات پر پوری اُتریں آپ فرماتے ہیں ”میں نے ارادہ کیا کہ فوراً ان کو تعلیم دوں مگر وہ اس شوق میں مجھ سے بھی آگے بڑھی ہوئی تھیں۔آپ ہی کی تحریک پر 1922ء میں خواتین کی تنظیم لجنہ اماءاللہ قائم ہوئی۔آپ نے اس کے اغراض و مقاصد کو بروئے کار لانے کے لئے جو مساعی کیں اس رپورٹ سے ظاہر وباہر ہیں۔عربی کی پہلی کتاب ختم ہوگئی ہے اور دوسری ختم