محسنات — Page 46
46 کو جمع کر کے روزانہ تقریر شروع فرما دی جو بطور درس تھی۔پھر چند دن کے بعد حضور نے حکم فرمایا کہ مولوی عبدالکریم صاحب اور مولوی نورالدین صاحب اور دیگر بزرگ بھی عورتوں میں درس دیا کریں۔چنانچہ مولوی عبدالکریم صاحب درس کے لئے بیٹھے اور سب عورتیں جمع ہوئیں۔(سیرۃ المہدی حصہ سوئم صفحہ 882) حکیم الامت حضرت خلیفہ مسیح الاول کے دور میں بھی درسِ قرآن کا سلسلہ جاری رہا آپ نے ایک خاتون کو فہم قرآن کی سند ان الفاظ میں عطا فرمائی۔” میری یہ بچی ایسی ہے کہ مجھے اطمینان ہے کہ قرآن کریم پڑھانے کا میرا کام عورتوں میں جاری رکھے گی۔“ یہ تعریفی کلمات آپ نے اپنی نواسی محترمہ ہاجرہ بیگم بنت محترم حکیم فضل الرحمان صاحب کے متعلق ارشاد فرمائے جس نے اپنے نانا جان سے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کر کے خداداد ذہانت سے یہ اعتماد حاصل کیا۔خواتین کو قرآن مجید پڑھانا آپ کا شغل تھا۔سینکڑوں عورتوں نے آپ سے قرآن پاک سیکھا۔آپ کے مضامین علمی رسالہ احمدی خاتون میں شائع ہوتے تھے۔خلافت ثانیہ میں بھی درس قرآن کا سہرا ایک خاتون کے سر: حضرت سید ہ امتہ ائی صاحبہ بنت حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب جنہیں حضرت مرزا بشر الدین محمود احمد خلیفتہ اسیح الثانی کی حرم ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔تقویٰ ، طہارت اور زہد میں نہایت نمایاں مقام پر کھڑی نظر آتی ہیں۔کیوں نہ ہوتیں کس عاشق قرآن باپ کی لخت جگر تھیں۔اور کس ماحول کی پروردہ؟ گویا رگ و ریشہ میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور قرآن پاک سے عشق رچا ہوا تھا۔آپ کی عمر 13 برس کی