محسنات

by Other Authors

Page 256 of 286

محسنات — Page 256

256 اوقات غلطی سے محبت کی جھاڑ بھی کھالیتی تھیں مگر پھر بھی کسی موقعہ پر وہ پوکتی نہیں تھیں اور اپنا فرض برابر ادا کئے جاتی تھیں۔اس لئے غریب عورتیں بلکہ غریب مرد بھی اُنہیں اپنا سچا مربی خیال کرتے تھے اور ہر تکلیف کے وقت ان کے دروزے کی طرف دوڑتے تھے اور وہ بھی سب کے ساتھ محبت سے پیش آتی تھیں۔آپ نے کئی یتیم ، بچیوں اور بچوں کو اپنے ساتھ رکھ کر اپنے گھر میں پالا اور ہمیشہ اپنے بچوں کی طرح سلوک کیا۔ان کے دکھ کو اپنا دکھ اور ان کی راحت کو اپنی راحت سمجھا۔غریبوں کی دلداری کا اس رنگ میں بھی مرحومہ کو خاص خیال تھا کہ ان کی خوشیوں میں اپنے عزیزوں کی طرح شریک ہوتی تھیں۔اس کا نتیجہ یہ تھا کہ جب آپ کسی سفر وغیرہ میں ہوتی تھیں تو کئی لوگ اپنے عزیزوں کی شادی کو صرف اس وجہ سے ملتوی کر دیتے تھے کہ آپا جان آئیں گی تو پھر ان کے سامنے شادی کریں گے۔الغرض حقیقی معنوں میں غریبوں کی دوست اور یتیموں کی ماں تھیں۔مجھے وہ واقعہ غالبا کبھی نہ بھولے گا کہ جب حضرت میر محد الحق صاحب کی وفات ہوئی تو اس دن میں نے دیکھا کہ ایک غریب مہاجر بہشتی مقبرہ کی سڑک پر اور ہا تھا۔اور جب میں اس کے پاس سے گزرا اور اس کی طرف نظر اٹھائی تو اس نے مجھے سسکیاں لیتے ہوئے کہا کہ آج غریب بالکل یتیم ہو گئے۔پھر کہنے لگا بارہ 12 دن پہلے غریبوں کی ماں گزرگئی تھی اور آج باپ بھی رخصت ہوا۔اس کا اشارہ سیدہ اُمم طاہر صاحبہ اور حضرت میر محمد الحق صاحب کی طرف تھا۔میں نے دل میں کہا گواصل یتیم اور غیر یتیم تو اللہ کے ساتھ تعلق رکھنے یا نہ رکھنے کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔اور جس کا خدا زندہ ہے اور اس کا اس سے تعلق ہے وہ کبھی یتیم نہیں ہو سکتا۔مگر اُس غریب مہاجر کا کہنا بھی درست ہے کہ ان دو او پر تلے کی موتوں نے قادیان کے غریبوں کے دو بڑے ظاہری سہارے اُن سے چھین لئے۔اور میں نے دُعا کی خدائے تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں ”نعم د