محسنات

by Other Authors

Page 241 of 286

محسنات — Page 241

241 آئی تو ذکر کرتے ہی اس قدر روئی اس قدر آواز گلو گیر ہوئی کہ منہ سے بات نہیں نکلتی تھی۔میں حیران تھا کہ ساس فوت ہوئی ہے اور اتنا عرصہ بھی گزر گیا یہ کیا بات ہے تو اُس نے کہا میں آپ کو بتا نہیں سکتی۔وہ کیسی ساس تھی اُس نے مجھے ماؤں سے زیادہ پیار دیا ہے اور میری کمزوریوں کو اس طرح نظر انداز کرتی تھیں جیسے مجھ میں کوئی کمزوری کبھی تھی ہی نہیں اور اس کی وجہ سے میری ساری زندگی دعا بن گئی ہے اور میں ہمیشہ اُن کو دعا میں یا درکھوں گی۔آپ بھی ان کے لئے دعا کریں۔ایسی ساسیں خدا کے فضل سے دنیا میں اور بھی ہیں مجھے سب سے زیادہ خوشی اُس وقت ہوتی ہے جب کوئی بہو ملاقات کے دوران اپنی ساس کا ذکر کرتی ہے تو محبت سے اُس کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں ایسے بہت سے واقعات ہیں جرمنی میں ملاقاتوں کے درمیان بھی ایک بہو ملی تو اس سے میں نے پوچھا کہ تمہاری ساس کا کیا حال ہے۔اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ، زندہ ساس ہے اُس کی وفات کا صدمہ نہیں بلکہ محبت کی وجہ سے اُس نے کہا آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ کیسی احساس کرنے والی ساس ہے کس طرح اُس نے مجھے پیار دیا ہے۔اُسی کی برکت سے ہمارا گھر جنت بن گیا ہے۔ایسی ساسیں یقیناً وہ مائیں ہیں جن کے متعلق حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبر دی کہ ان کے پاؤں کے نیچے جنت ہے۔خطاب کے آخر پر حضور انور نے تقویٰ کی حفاظت اور اُس پر قائم رہنے کی