محسنات — Page 134
134 ہیں۔اس سے کیا غرض کہ کوئی دیکھ رہا ہے یا نہیں دیکھ رہا۔اور اکثر خواتین کے حالات سے تو دُنیا بے خبر ہوتی ہے اُن کو کیا پتہ کہ گھر میں کس حالت میں گزارا کیا۔کس مصیبت سے وقت کا ٹا، کس طرح اپنے بچوں کی بھوک اور تکلیفوں اور بیماریوں کو برداشت کیا۔یہ ساری وہ داستانیں ہیں جو نہ لکھی جاسکتی ہیں نہ لکھنے والوں کو میسر آتی ہیں لیکن یاد رکھیں کہ ہمارا خدا اپنے بندوں کی ادنیٰ سے ادنیٰ قربانیوں پر بھی نگاہ رکھتا ہے۔اور اپنے فضلوں سے نوازتا چلا جاتا ہے۔ان قربانیاں کرنے والوں کے حالات پر غور کریں جن میں سے کچھ کا ذکر میں نے آپ سے کیا ہے اور اب ان کی اولادوں کو دیکھیں کہ خدا تعالیٰ نے ان کو کیسے کیسے فضلوں سے نوازا ہے۔کس طرح دنیا میں عزتیں دیں۔کس طرح دین میں اُن کو مستحکم کیا اور دین و دنیا کے لحاظ سے ہمیشہ کے لئے سرفراز اور سرخرو ہو گئے۔خدا کرے کہ احمدی خواتین کو ہمیشہ احمدیت اور ( دینِ حق ) اور خدا کی خاطر قربانیوں میں صف اول میں مقام عطاء رہے اور ہمیشہ اس مقام کی حفاظت کرتے ہوئے اس جھنڈے کو اپنے ہاتھوں میں بلند کرتے ہوئے وہ آگے بڑھتی رہیں۔۔ایک مثالی واقف زندگی کی اہلیہ کے انداز : حضور اقدس رحمہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ 3 اپریل 1992 ء میں اپنی حرم محترمہ بیگم صاحبہ آصفہ بیگم صاحبہ کے متعلق فرمایا :- جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ابتداء میں آپ کا لجنہ وغیرہ سے کوئی ایسا تعلق نہیں تھا کیونکہ تربیت اور رنگ کی تھی۔لیکن میرے کاموں میں بہت ہی بوجھ اُٹھایا ہے کیونکہ میرے تعلقات بہت زیادہ وسیع تھے اور ہر وقت مہمانوں کا آنا جانا۔گھروں میں میٹنگز ہوتیں۔میرا بے وقت گھر سے نکل جانا۔صبح ایک سفر پر روانہ ہوا کہ رات کو آ جاؤں گا لیکن وہاں سے آگے بنگال چلا گیا۔کئی دفعہ دو دو ہفتے ، تین