محسنات — Page 121
121 امریکہ سخت بیمار تھیں اور مرض کے شدید دورے ہوتے تھے جن کی وجہ سے وہ ہر وقت موت کے قریب ہو جاتی تھیں۔درد اس شدت سے اٹھتی تھی کہ چیچنیں دور دور تک سنائی دیتی تھیں اس حالت میں مولوی صاحب موصوف کو امریکہ جانے کا حکم ہوا۔مولوی صاحب نے اپنی اہلیہ کی شدید تکلیف کی حالت کو دیکھ کر کہا حمیدہ! اگر تم کہو تو میں حضرت صاحب کو کہہ کر اپنا سفر منسوخ کرالوں۔مگر بستر مرگ پر لیٹی ہوئی حمیدہ خاتون نے کہا نہیں نہیں آپ جائیں اور مجھے خدا کے حوالے کر دیں۔خدمت سلسلہ کے اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔چنانچہ مولوی صاحب موصوف امریکہ کے سفر میں ابھی لندن ہی پہنچے تھے کہ حمیدہ خاتون اپنی جان جان آفریں کے سپر د کر کے جنت کو سدھاریں۔مولوی نذیر احمد صاحب مبشر سیالکوٹی کے بارے میں اسی کتاب میں لکھا ہے کہ مولوی نذیر احمد صاحب مبشر نکاح کے بعد رخصتانہ سے قبل ہی افریقہ چلے گئے تھے۔اُس زمانے میں مبلغین کی بھی اتنی کمی تھی اور دنیا میں مختلف جگہوں پر ایسے تقاضے پیدا ہورہے تھے کہ حضرت فضل عمر اتنا بھی انتظار نہیں کر سکتے تھے کہ جس کا نکاح ہو چکا ہے اُس کو شادی کی ہی اجازت دیدیں۔رخصتی کا ہی انتظار کر لیں چنانچہ ادھر نکاح ہوا اور ادھر افریقہ میں ضرورت پڑی تو آپ کو افریقہ بھجوادیا گیا۔پھر جنگ کی وجہ سے واپس نہ ہو سکے۔وہ لکھتے ہیں کہ اب ان کو 8 ، 9 سال کے قریب ہو گئے ہیں۔اور ابھی عزیزہ موصوفہ کا رخصتانہ نہیں ہوا۔مجھے یاد نہیں کہ کتنی مدت کے بعد آئے تھے تو وہ کنواری دلہن بوڑھی ہو چکی تھی اور اس عمر میں داخل ہوگئی تھی جس کے بعد پھر پڑھاپے کے انتظار کے چند سال ہی رہ جایا کرتے ہیں۔انہوں نے اکثر وقت تنہائی اور جدائی میں کاٹا۔حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب درد کی بیوی نے جو قربانیاں پیش