حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 80 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 80

مصباح دیوه A- 80 دسمبر ۱۹۹۳ء۔۔۔دیتا چلا جاتا ہے کہ آخر میں دل اپنے مولا کے حضور آواز کی کالے بہت سخت تھی اور اس کا یہی انداز تشکر سے جھک جاتا ہے۔۔۔۔کراچی کی ہر قیادت کے میرا دل لے اڑا۔میٹنگ کے بعد ایک خاتون سے حلقوں میں تیری مدھ بھری آوانہ کی گونج ہر تمبر کو پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ پھر ہر پیر ایک دوسرے رلائے گی۔۔۔ہمارے اجتماع تیرے آنے سے سج جاتے سے تعارف بڑھتا رہا۔بے تکلفی بڑھتی چلی گئی تھے۔۔۔۔انتخاب بہت خوش اسلوبی سے نسلی بخش پھر میرا وہ پہلا سفر تھا جو غالبا اجتماع با میٹنگ کرانا۔تقاریر کی حج منٹ۔۔۔حصہ لینے والوں میں آنے والی کراچی کی نمائندہ نمبرات کے ساتھ تھا۔کی غلطیوں کی اصلاح اس طرح کمی تا کہ کسی کی دل آزاری ضلعی عاملہ میں سے آپا سلیمہ میر ، آپا شاقی ، بیشہ کی داؤد نہ ہو۔وہ سراپا محبت تھی۔ایک دفعہ ہو ملتا اس امتها المرفین ظفر، بشری حمید سب ہی تو تھیں۔سارے کا گرویدہ بن جاتا۔۔۔۔وہ عشق خدا اور عشق رسول راستے علمی مسائل ، رپورٹس کی باتیں۔دوران سفر ہی میں ڈوبی ہوئی۔امامت اور خاندان حضرت بانی سلسلہ بیشتری نے کچھ اس انداز سے میرے ذمے پہلی مرتبہ سے بے انتہا محبت اور غیرت رکھنے والی۔۔۔میرا کراچی لجنہ کی شائع کردہ کتب پاکستان بھر سے آنے پہلا تعارف اسی حوالہ سے تھا۔تقریبا سات سال فیل والی لجنات سے متعارف کرنے کی ڈیوٹی لگائی کہ ناں جب میں کراچی میں رہائشق کے لئے آتی۔پہلے ہی اجلاس کرنے کی گنجائش ہی نہ تھی اور شعبہ اشاعت لجنہ میں حلقہ کس اسکوائر قیادت کی سیکرٹری مال بنا اما ء اللہ کراچی جن کے متعلق یہ کہنا بجا ہوگا کہ حضور دیا گیا۔مہینے کے آخرہ میں بتایا گیا کہ احمدیہ ہال میں ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دعاؤں اور شفقت کے چندہ جمع کرانا ہے کہ دفتر مال میں پچندہ جمع کیا یا طفیل اک قطرہ اس کے فضل نے دریا بنا دیا لیکن توسیکریٹری مال صاحبہ نے کہا کہ باہر نگرانوں کی اس کی پہلی تخلیق کو نیل “ جو تیار تو امتہ الباری ناصر میٹنگ ہو رہی ہے۔اپنی نگران سے پوچھ لو کہ دوسری صاحبہ نے کی لیکن اس میں بشری کے دل کا کرب اور رسید یک اُن کے پاس ہے یا نہیں۔عرض کی میرا یہ وہ آنسو بھی شامل ہیں جو اپنی قوم کے معصوم اور پہلا دن ہے میں کسی کے متعلق کچھ نہیں بھانتی جواب ننھے بچوں کے لئے کچھ اس درد سے بہائے کہ پاک کثیر عالی قیادت علی کی نگران امتہ الثانی سیال ہیں میں کو نیل تیار ہو گئی۔اور ابھی بھی ایسی کراچی کی ممرات میٹینگ میں موجود ہوں گی کیونکہ میٹنگ جاری تھی ہوں گی۔سین کو " مجاہد ماں بنا کر اپنے ہاتھوں سے میں گیلیری میں ستون کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی ہوئی۔لکھ کر فوٹواسٹیٹ کو ا کہ نصاب کی صورت میں دی بولنے والی کی پر جوش آواز کا یہ نقرہ دل کی اتھاہ پھر سلطان القلم کی یہ سپاہی میں نکلیں۔کو نیل کا پہلا گہرائیوں میں اتر گیا " خاندان کی بات کرنے سے پہلے پہلا ایڈیشن پریس سے تیار ہو کہ آیا۔پھر منچہ اور یہ سوچلین که حضرت باقی سلسلہ احمدیہ کا احسان ہم کل ان کی مشترکہ کوشش سے تیار کر کے عمر کے ساتھ کیا ہماری نسلیں بھی نہیں اتار سکتیں، اس کی بڑھتے بچوں کے لئے تیایہ ہوا۔نہ صرف پاکستان سے