حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 7
مصباح ریوه 7 دسمبر ۱۹۹۳ء منظوم کلام حضرت امام جماعت احمدیہ الثانی۔بروفات حضرت سید ساره بیگم صاحبہ کر رحم اسے رحیم میرے حال زار پر زخم جگہ یہ درد دل بے قرار پر مجھ پر کہ ہوں عزیزوں کے حلقہ میں مشکل بغیر اس بے کس و نحیف و غریب الدیار پر جس کی حبات اک ورق سوز و ساز ھنی جیتی تھی جو غذائے تمنائے یار پر مقصود جس کا علم و تقی کا حصول تھا رکھتی تھی جو نگہ نگر لطف یار پر حقی ما حصل حیات کا اک سعی ناتمام کائی گئی غریب حوادث کی دھار پر دل کی امیدیں دل ہی میں سب دفن ہو گئیں پائے اُمید ثبت رہا انتظار پر ہاں اسے مغیث سُن لے میری التجا کو آج کر رحم اس وجود محبت شعار پر اُس کے گیارہ بادۂ الفت کی روح پر اس بوستان عشق و وفا کی مزار پر ہاں اُس شہید علم کی تربیت پر کر نیز دول خوشیوں کا باب کھول غموں کی شکار پر میری طرف سے اس کو جزا ہائے نیک دے کر رحم اسے رحیم دلِ سوگوار پر حاضر نہ تھا وفات کے وقت اسے میرے خدا بھاری ہے یہ خیال دل ریش و ندار پر کلام محمود