حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 5 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 5

مصباح دیده 5 در ۱۹۹۳ء محترمہ طاہرہ صدیقہ ناصر صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ ربوہ مکرمہ خور جہاں کنٹری داؤ د صاحبہ بچپن میں ناصرات کے اجتماع پیچہ تقریری مقامون مجھ سے ملنے رات کے وقت آئیں۔وہ ایسے وقت میں میں حصہ لیتے ہوئے کراچی سے آئی ہوئی ایک ناصرہ سے آنا چاہتی تھیں جب وہ آرام سے فصیلی گفتگو کر سکیں۔میری دوستی ہو گئی۔اجتماع کے بعد شام کچھ دیر کے لئے ان کے ذہنوں میں ایک ہلچل تھی۔ایک بے قراری تھی۔نہیں اس کے ساتھ دفتر مجنہ کے لان میں ٹھہر گئی۔اور وہاں ایک تمنا تھی کہ کس طرح وہ لجنہ کے کاموں کو بہتر طور اُس دوست کی باجی سے میری ملاقات دوست کی وساطت پر کر سکیں اور نئی نسل کو دین کے کاموں میں صحیح خطوط سے ہوئی۔انتہائی محبت کرنے والی چھوٹی بہن پھر چلا سکیں۔اپنے پروگراموں اور کوششوں کا انہوں بہت شفقت کرنے والی۔بہت نرمی سے بات کرنے نے ذکر کیا۔اور مجھ سے مشورہ چاہتی تھیں میں نے والی ہستی تھی۔ایسی کہ اس مختصر سی ملاقات میں بھی ان کی اپنی بساط کے مطابق اُن سے گفتگو کی لیکن حقیقت یہ بھتی محبت کے چشموں کو میں نے پھوٹ پھوٹ کر بہتے ہوئے کہ اُن دنوں ابھی تک میں ذہنی طور پر اپنے صدمے پر قابو محسوس کیا۔اور یہی محبت و شفقت میرے دل کو اس نہ پاسکی تھی اور حقیقی معنوں میں پوری ذہنی قوت کے مسکراتے ہوئے چہرے کی طرف کھینچتی چلی گئی۔مجھے ساتھے سوچ نہ سکتی تھی۔بس لمنے والوں سے بڑی دوست سے بھی زیادہ اُس کی باحی اچھی لگیں۔اتنی مشکل کے ساتھ ایک ظاہری تباہ کرتی تھی۔چنانچہ ان کے کہ پھر ہمیشہ اُن کے ساتھ ہونے والی یہ ملاقات میرے چلے بجانے کے بعد دل پر ایک بوچھے سا رہا کہ نجانے ذہن میں تازہ رہتی۔دوست کی وہ باجی " صور جہاں دہ کتنی امیدوں کے ساتھ آئی ہوں گی اور یہیں انہیں کچھ بھی نہیں دے سکتی تھی۔بشری تھیں۔بہت سال گذر گئے۔میرے دل میں بچپن کی اور پھر جب بھی وہ ربوہ آنہیں ملنے کے لئے آئیں۔ہر وقت ہنستا ہے کراتا ، بشاش چہرہ۔لجنہ کے یہ نمرم یاد ہمیشہ محفوظ رہی۔پھر ایک لیے عرصہ کے بعد بیشتری داؤد سے طاقاتوں کاموں کے لئے ہر وقت مستعد اور پھر جوش جذبہ ا دوسرا سلسلہ میری شادی کے بعد شروع ہوا اور یہ خدمت ان کی رگ رگ سے پھوٹ رہا ہوتا۔اتیں اکثر لجنہ کے حوالہ سے ہوتی ہ ہیں۔مجھے یاد ہے ا ان ملاقاتوں کے علاوہ لینٹری سے میری ملاقاتیں ڑ کے جلسے کی ایک رات بیشتری داؤد اور نگار ایک اور جگہ بھی ہوتی رہیں۔جس کی یاد ہمیشہ مجھے اُن