حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 4
مصباح دیوه L دسمبر ۱۹۹۳ء دفعہ دلشکن جدائی سے ایسا تر ہی ہیں۔شہر کراچی میں آپ جیسی ہزاروں ہوں گی لیکن نہ انہیں شعر کہنے کا ملکہ نصیب نہ تنثر میں اظہارِ درد کا سلیقہ۔وہ تو فی الخصام " بھی " غیر مبین “ ہیں۔ان کو بھی تو آپ ہی نے زبان دینی ہے۔ان کی داستان غم بھی تو آپ ہی کو رقم کرتی ہے۔جب دست قدرت گزرتے ہوئے وقت کی مرہم لگا کہ آپ کے جھلائے ہوئے صبر کو ذرا قرار بخش دے اور یہ متلاطم پانی ذرا ٹھہر جائے تو توری کی پاکیزہ یاد کو ایسا دلگداز خراج تحسین پیش کر یں کہ ہر پڑھنے والے کا دل پگھل پگھل کہ آستانہ الوہیت کی جانب دعائیں بن بن کر بہنے لگے۔جانے والی کا خیال تو بہت دیر اُن کو بتاتا رہے گا۔جو اُس کے ساتے رہیں۔مجھے تو پیچھے رہنے والوں کا تم لگ گیا ہے۔داؤد اور اُن معصوم بچوں کا غم جن کی بعض پیاری باتوں کا ذکر میری زبان سے سنتی تھیں تو حوری کا دل کھلکھلا اُٹھتا تھا۔مرزا عبد الرحیم بیگ صاحب کا غم تو ایسا دل میں آن بسا ہے جیسے اپنے گھر میں آبیٹھا ہو۔ایک ادنی اسی بھی اجنبیت نہیں۔آپ نے ٹھیک ہی یاد دلایا ہے کہ یہ فقیروں کے سے غم میرے محسن ہیں جو دل کو ایک شرف عطا کر جاتے ہیں۔لیکن بعض تم یہ شرف عطا کر کے چلے نہیں بھاتے بلکہ وہیں ایک گوشے میں دھونی برما کہ بیٹھے رہتے ہیں۔اور محض دھیان کی ہو گئیں ہی نہیں بلکہ بعض خطوں کی جو گنیں بھی راگنیں بن کر آتی ہیں اور رات بھر احساس کے دُکھتے ہوئے تار چھیڑتی ہیں اللہ سب پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور میر جمیل کا لامتناہی اجر بھی۔والسلام ، خاکسار مرزا طاہر احمد اسیرانِ راہِ مولیٰ کیلئے درخواست کا احباب تمام اسیران را ہ مولی کو اپنی خصوصی دعاؤں میں یاد رکھیں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل خاص سے آزمائش کی گھڑیاں ڈال دے۔انہیں صحت و سلامتی رکھے اور جلد رہائی کے سامان پیدا فرما ( ) ) ) ) ) ) ) ) ) ) ) ) ) ) ) ) ) ) ) ) ) ) ) ) ) )