حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 3
مصباح دیوه لنڈن ۲۹ - ۸ - ۹۳ حضرت امام جماعت احمدیہ الترابع محور جہاں بشری داؤد کو خراج تحسیین عزیزه مکرمه امته الباری ناصر دسمبر ۱۹۹۳ء عزیزہ توری رحمہا اللہ تعالیٰ کے وصال پر آپ کا سسکتا بلکتا ہوا اظہارِ درد موصول ہوا جو اس مضمون پر حرف آخر ہے۔اس اظہارِ درد میں کہے ہوئے عموں کے پیچھے ان کے غم بھی قطار در قطار کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔اس میں وہ نخواہیں بھی ہیں جو نقطہ تعبیر تک پہنچنے سے پہلے ہی ٹوٹ کر بکھر گئیں اور کچھ تعبیر کی حسرتیں بھی ہیں جیسے کھیل ختم ہونے سے پہلے بسا تھا اٹھائی جائے تو کیفیتیں بے کیفیوں اور بے چینی جھنجھناہٹوں میں تبدیل ہو جاتی ہے۔کچھ ویسا ہی منظر حروف کی چلمن سے دکھائی دے رہا ہے۔آپ نے تصور کی پریاں روشنائی کے شیشے میں اتار دی ہیں۔کاش حوری بھی آپ کا یہ خط پڑھ سکتی۔ہر فقرے کے جھونکے سے اس کی شروح احترازہ کہتی۔پتہ ہے میں نے کیا دعا کی ہے ؟ اگر روحوں کو دلوں میں جھانکنے کی توفیق مل سکتی ہے تو اللہ اس کی روح کو یہ توفیق بخشے کہ اپنے سب پیاروں کے دلوں میں جھانکا کرے۔دل ناصبور کی رگ رگ پھڑکتی ہوئی آپ کی وہ پچیخیں جو دل کے پردے پھاڑ کہ آسکیں کیسے یہ اعجا نہ دکھا گئیں کہ لگتا ہے جیسے فضاؤں کے سینے پر دیئے ہوں۔صبر و رضا کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے نہیں اور بے اختیار یہ چیخیں جو ساتھ والے کمرے میں بھی سنائی نہ دیں یسے سات سمندر پار سنائی دینے لگیں۔جس دوام پر پیچ و تاب کھاتی ہوئی بھرتی ، تڑپتی ، سر ٹپکتی اول کی آگ سے کیسے آپ نے اپنے عزم تسلیم و رضا کو بچا لیا کہ آنے تک نہ آنے دی۔کیسے کی آنکھوں کے سامنے ہر شعلہ فغاں سسکیوں میں ڈھل ڈھل کر خون دل میں سنسنا ستنا مجھتا رہا۔پاک اللہی الہی محبت ہو تو ایسی ہو۔لیکن ایک آپ ہی تو نہیں جو حور شمائل خوری کی