حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 82
مصباح ریده AP 82 د تر ۱۹۹۳ ء چاول کھائے تھے کہ تمہاری شناخت ہی یہ بن تجھے حیات جادوائی دیتی رہیں گی۔جو وقف تو گئی ہے۔تو کتے اس کی خوشیوں میں بھی منفرد ان سے فیض پائیں گے۔اُس کی جزا میرا مولا نے رنگ بھرے۔طوبی کی آئین کے حوالے لان پیر جو تاقیامت تجھے دیتا رہے اور تیری نسلوں کو بھی فتکش کیا۔ہلکا پھلکا سیرت کا جلسہ ہی بن گیا کبھی - تیرا یہ فقرہ سدا میرے کانوں میں گونجتا رہے طولی کی گڑیا کی شادی کے بہاتے اہل محلہ کو گھیر لیا۔گا کہ میں تو ہمیشہ یہ دُعا کرتی ہوں۔میرے تو اپنے آباء کا ذکر بھی جس عقیدت و احترام سے مولا تو مجھے اس وقت کہتے پاس بلا نا جب تو کرتی وہ تیرا ہی حصہ تھا۔تجھے فخر تھا کہ تیرے مجھے سے راضی ہو۔دادا جان کی قربانیاں بہت عظیم تھیں۔چینی گلیوں میں م خدا کرے تیری طرح ہم بھی اپنے موں کی اُن کا ہو ا حمیت کے لئے بہا۔اُس کا رنگ تیرے رضا کی راہوں پر چلنے والے ہوں۔یہ یادیں تو لہو میں بھی تو شامل تھا۔تو اپنے ہوش ، جذیہ اور بشری تقاضے اور کمزوریاں ہیں۔یہ سب محبتیں عشق کا سہرا اپنے بزرگوں کی دعاؤں کے سر ہی بھی تو اُسی کی عطا کردہ ہیں۔لہذا باندھنتی۔۔۔ہاں ہاں اُن دعاؤں کی طاقت ہی تو اسے میری جاں ہم بندے ہیں اک آقا کے آزاد نہیں تھی۔کراچی سے ریوہ تک کا طحہ بالی سفر کر کے بھی تو اور سنیچے بندے مالک کے ہر حکم پر قربان جاتے ہیں رات گئے جب سب آرام کے لئے لیٹ جاتے۔۔۔سے حکم تمہیں گر جانے کا اور ہم کو ابھی کچھ ٹھہرنے کا تو بھی تو سب لائٹیں بجھا کر اپنے سر پر دیئے کی تم ٹھنڈے ٹھنڈے گھر جاؤ ہم بجھے بجھے آتے ہیں طرح ٹمٹمانے والا عجیب جلائے اپنا مسودہ مکمل کرنے کی فکر میں تھی۔تو تب بھی مجھے بہت لگی تھی۔سحری کے قریب آنکھ کھلنے پر دمت دین میں زندگی کا لطف تجھے کہا کہ خدا را کمر سیدھی کو ہے۔تو جو ابا یہی کہا کہ وہ لوگ جن کو پہلے دین کی خدمت کی عادت نہیں۔ہاں ہاں تھوڑا سا کام رہ گیا ہے۔لیکن دیکھو میشنی میرے جب رفتہ رفتہ ان سے خدمت کی بھاتی ہے تو ان کے اندر جاتے ہوئے مجھے ضرور ساتھ لے لینا۔۔رات دس سے ایک نیا شعور پیدا ہوتا ہے۔وہ سمجھتے ہیں بیچے باری آپا سے پوچھا۔۔۔۔کہ شاہد اب بھی تو بہشتی کہ ہمیں تو اب زندگی کا پتہ چلا ہے۔اس سے مقبرہ آئے۔لیکن تیری آخری آرام گاہ تیرے اپنے پہلے تو غفلت کی حالت میں وقت ضائع کیا۔وطن ہی میں بنی۔۔۔تو سب کے دلوں کو سوگوار و اور ان کو زندگی کا لطف آنے لگ جاتا ہے حضرت امام جماعت احمدیہ المرابع تہ خمی کر گئی۔ہم تجھے کبھی نہ پھیلا سکیں گے ، تو نے میدان عمل میں جان دی۔۔۔۔تو محنہ کی تاریخ احمدیت میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔تیری یہ تخلیق کہ وہ کتابیں ۲۲ نومبر ۱۹۹۱ء