حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 81 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 81

مصباح ریوه Al 81 دسمبر ۱۹۹۳ء بلکه بیرون پاکستان سے بھی آڈر آنے لگے۔کیونکہ دل پہ وہ چوٹ لگی ہے کہ دکھا بھی نہ سکوں یہ کورس ناصرات کے ساتھ وقف تو کے نصاب اور چاہوں کہ چھپا لوں تو چھپا بھی نہ سکوں میں بھی شامل ہو چکا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ آشنا غیر نہیں اپنے غم پنہاں سے مقدس در شهر، چشمه زمزم، اصحاب الفیل تھے ضبط کر بھی نہ سکوں اشک بہا بھی بینکوں بچوں کے لئے سیرت نبوٹی کو آسان زبان میں کہانیوں نہیں تو عرصہ کے بعد بچوں کو چھٹیوں میں لے کی صورت دے کر اپنے اندر کے عشق رسول کو آنے کمہ ربوہ امتی کے پاس آئی۔اب تو ہفتہ ہی تو رہ والی نسلوں میں منتقل کر رہی تھی۔میرے مولا اس گیا تھا واپسی ہیں۔۔۔وکالت وقف نو کا آرڈر کی روح پر ہزاروں رحمتیں نازل فرما۔تھا کہ ان کو دی بھانے والی چھے کتب کا سٹاک اگر دیکھ لو بشری تیری یہ اچانک بھدائی کتنوں تی کتاب ۵۰۰ کی تعداد میں رکھوائی سما سکے تو مرکز کو خون کے آنسو رلا گئی۔لجنہ مرکز یہ ربوہ جو حضرت آنے والے وفد کو دینے میں آسانی ہوگی۔اس میں سیدہ چھوٹی آپا مریم صدیقہ صاحبہ صدر لمحبتہ پاکستان پانچ کتابیں تمہاری ہیں۔سوچا تھا جانتے ہی تمہارے کی صحت یابی کی خوشی میں ۲۲ جولائی ۱۹۹۳ء سامنے رکھوں گی۔۔۔۔تو حسب سابق تم بانہوں کی شام پر وگرام نیابہ کر چکے تھے۔فوری طور پر میں لے لو گی۔اسی پر بخوش انداز میں مبارک باد ملتوی کر دیا۔۔۔تمہیں بھی تو آیا قوسی سے بہت پیار دیتے ہوئے ماتھا چومو گی اور پھر بڑی انکساری تھا۔وہ بھی مجھے گلے لگائے کرد دیں۔کہتی تو ٹھیک سے کہو گی۔او میری بہن اس میں ہماری کوئی ہی ہیں کہ در اتنی محیت بڑھاتی ہی نہیں چائے باری بہادری نہیں یہ سب تو میرے پیارے آقا کی رات گفتار یا کہ دل کو کوئی نو پا رہا ہے۔حضرت دُعائیں ہیں۔میرے مولا کے احسان ہیں۔ہم ہیں کیا سیدہ چھوٹی آپا نے فرمایا کراچی والے تو بشری چیز۔۔۔واقعی ہم کچھ چیز بھی نہیں۔۔۔ورنہ کہتے تھے۔لیکن ہم اُسے خوری کے نام سے بھی کوئی تو تیری راہ روکتا تیرا وہ عظیم باپ۔جانتے ہیں تحر صفیہ عزیمہ صاحبہ کو بھی وہ پر جوش تیری صایمہ ماں ، تیرا قدر دان شوہر جن کی مثالیں میٹنگ یاد آ رہی تھیں، جو لمینہ کراچی اور لبن مرکز میں تو بارہا دیا کرتی تھی۔تیرا اکلوتا بھائی تجھے کی ہوا کرتی تھیں۔سٹاف کی ہر عمیر کی آنکھ میں آنسو پیار کرنے والی تیری بھابھی مین کے تو کسی گایا ہیں۔۔۔۔۔گذشتہ سال ہی تو مجنہ لاہور کے میرت کرتی تھی۔ہے ہی تیری چھوٹی بہن جو تجھے اپنے کے جلسوں کو تو نے رونق بخشی۔وہاں بھی تو نے جگہ گوشوں طاہر اور ناصر کی طرح پیاری تھی اور اپنی آواز کا جادو جگایا۔۔۔تیرے چاہنے والے وہ ننھی طوبی جو فون پر سلام سنتے ہی پکارتے تو جہاں جہاں بھی ہیں تجھے کبھی نہ بھول پائیں لگتی۔۔۔۔امی آپ کا فون چاول والی آنٹی۔۔۔۔اور تمہار اسلام کے ساتھ جاندار قہقہہ۔۔۔۔کیسے۔