حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 71
مصباح ربوہ شاپنگ کے لئے جانے کو کہتی تو بیشتری ملتوی کرنے کو کہتی۔میں کہتی میتری چلو شاپنگ کہ آتے ہیں۔پیسوں ومبر ۱۹۹۳ء نے ہوش آنے پر سب سے پہلے اللہ کا نام لیا ہے۔صابر شاکر تو وہ بے مثال تھی۔ایران سے کا کیا ہے بعد میں حساب ہوتا رہے گا۔بہتری کہتی نعیمہ خالی ہاتھ آئی تو کئی قسم کی سنگیں پریشانیوں نے میرا محلا بہت پیارا ہے۔کہیں اُس سے مانگتی ہوں تم یہ استقبال کیا۔مگر وہ بتایا کرتی کہ نہیں تے کسی کو کچھ تو کہتی ہو کہ بعد میں حساب ہو جائے گا۔یہ کیوں نہیں نہ بنایا۔بس جائے نماز بچھاتی اور اپنے پیارے موں کہتی کہ خدا تعالی پہلے ہی بندوبست کر دے۔میرا مولا تو کریم کو اپنے دکھ درد کہ دیتی۔اسی سے فریاد کرتی۔میری ضروریات ہی نہیں میرے شوق بھی پورے کر دیتا سسکتی اور رحم کی طرح طرح سے بھیک مانگتی تو تو ہے۔اور واقعی میں دیکھنی اللہ تعالی عنیب سے سامان بہم ماں باپ سے زیادہ پیار کرنے والا ہے۔حالات کو بدنی سکتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ اُس کا ساتھ دیتا رہا۔سادہ، نفیسی اور کم قیمت لباس پسند کرتی۔ایک دفعہ ایسی ہی مالی تنگی تھی بچوں کی فیس دینے کے پہنچا دیا۔کہتی مجھے مہنگا کپڑا پہننے اور مہنگا کھانا کھاتے ہوئے خدا سے بہت خوف آتا ہے۔عالی شان بنگلے، قیمتی زیور نے لئے رقم نہیں تھی۔اللہ پاک نے کچھ رقم کا انتظام کر دیا دل مطمئن ہو گیا کہ صبح فیس بھیج دیں گے مگر شام ہوئی کپڑے دیکھ کر کہتی میرا مولا کتنا پیارا ہے اُس کا کتنا تو ایک محترم خادم چندہ لینے کے لئے آگئے۔پہلے خیال احسان ہے کہ مجھے اتنی عالی شان اور قیمتی چیز میں دیکھاتا آیا کہہ دوں آج نہیں دے سکتے مگر ساتھ ہی ندامت ہے۔طبیعت میں قناعت تھی کبھی کسی کے مال و دولت ہوئی کہ اللہ تعالی نے آج ہی رقم دی ہے آج ہیں اللہ سے مرعوب نہ ہوئی مگر روحانی دولت میں سب پر کی خاطر چندہ دینے سے انکار کر دوں چنانچہ ساری رقم چندے ہیں ادا کر دی۔اللہ تعالیٰ کو یہ تو کل اتنا پسند ہمینہ رشک کرتی۔" محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں ؟ آیا کہ اُس خندانوں کے مالک نے اُس سے کئی گنا زیادہ کا سلوگن اس کی ذات میں حقیقی تفسیر بن جاتا۔کوئی اور بھیج دیئے کتنا ہی پریشان ہو اسے اپنی دلربا باتوں سے نسلی دے طوبی کی آمین کا پروگرام بنایا تو نیت یہ مفتی کہ دیتی۔کسی کو حکمت کا نسخہ بتائی کسی کو دعائیں بتاتی۔گلے غیر از جماعت مہمانوں کو بلانے کی ایک صورت ہو جائے گی۔لگا کہ منہ چوم کر پیار کرتی اُس کا وجود جسم پیار وجود جس پیمانے پر اپنے مہمانوں کی عزت افزائی کرنا چاہتی ایسا مغناطیسی تھا جو سب کو اس سے چھٹا دیتا۔تھی اُس پر بہت تریچ اُٹھتا وہ دُعا کرتی رہی اور پروگرام آخری دنوں میں جب وہ ہسپتال میں بھی متعلقہ ڈاکٹرز اور سٹاف اُس کے گرویدہ ہو گئے تھے جب اُس بناتی رہی۔طوبی کی آئین بڑی شاندار ہوئی۔اوین ایر فضا میں جہاں شادیوں کے انتظامات کی سی جنگ لگ تھی۔نے آپریشن کے بعد ہوش آنے پر اللہ کا شکر ادا کیا تو تھوڑا سا یا معنی سادہ سا پروگرام رکھا اور پھر کھانے ڈاکٹر بہت متاثر ہو کر کہنے لگا یہ پہلی مریضہ ہے جس کی دعوت دی۔اگلے دن بتایا کہ جس قارہ خرچ ہوا بعینہ