حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 70 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 70

مصباح رایده 70 د گمبر ۱۹۹۳د اُس کا دل ایسا ہمدردی سے بھرا تھا کہ کسی تحفوں سے بھرا ہوتا۔عید مل کر کچھ نہ کچھ تحفہ دیتی۔کو تکلیف میں دیکھنا اُسے گوارا نہ تھا۔بازار میں اس دفعہ عید کے بعد کہا کہ کچھ تحصے پہنچ گئے ہیں۔میں دفعہ چھوٹے چھوٹے مزدور بچے سامان اُٹھانے کے لئے کر میں درد کی وجہ سے زیادہ لوگوں سے مل نہیں سکی۔ساتھ ساتھ بھاگتے تو انہیں پیار کرنے لگتی۔نہیں گھر پر عید ملنے کے لئے آنے والوں کو بھی تحفہ ضرور میری جان میرے چاند میں خود اُٹھا سکتی ہوں اور ان دیتی۔کو کچھ نہ کچھ دے دیتی۔اور دیر تک گڑھتی رہتی یہ تا دیان گئی تو بہت سامان ساتھ لے گئی نا کافی بیچے نہ جانے کی گھروں کے چراغ ہوں گے اکھ ماؤں کے لیاس میں کوئی خاتون یا بچہ نظر آتا ساتھ لے آتی اور لاڈلے، کیسی کیسی ان میں صلاحیتیں ہوں گی۔میرا لیس بڑے پیار سے ضرورت کی چیز کیا اُن کو دیتی۔بعض چلے تو سب کو اپنے گھرے جاؤں پھر ان کی جسمانی اور خوانین تو زبان بھی نہیں سمجھتی تھیں ، انہیں اشاروں روحانی ضروریات پوری کریں۔اور اس کے ساتھ بشری سے سمجھاتی کہ ہم اور تم بہتیں ہیں۔جب اس مقصد سے کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے۔میرے ذاتی علم میں ہے لایا ہوا سارا سامان تقسیم کر لیا تو اپنے اور بچوں کے کہ وہ بہت سے لوگوں کی حتی المقدور مدد کرتی اور کپڑے تقسیم کرنے شروع کر دیئے کسی کسی فراک پر تو عزت نفس کے احساس کے ساتھ بڑے پیار اور دلار سے معصوم طوبی آہستہ سے بولتی اتی یہ تو ابھی ایک دفعہ دہ خدا تعالیٰ کی خاطر جو چیز دیتی وہ بطور خاص نمک ہی پہنا ہے یہ تو ابھی ایک واقعہ بھی نہیں پہنتا۔مگر ہوتی۔خدمت خلق کے لئے آنے والے کپڑوں میں بوسیدہ شہری بچی کو اس قدر پیار سے سمجھائی کہ وہ خوشی کپڑوں کو دیکھ کر اسے قصہ آتا اور سمجھایا کرتی اپنے محسوس کرنے لگتی۔آتے وقت ہم نے تقریباً سر کپڑا اللہ کے لئے اچھی چیز نکالا کرو۔وہ پسند کرتی۔کہ بستر وغیرہ سب تقسیم کر دیے تھے۔خراب کپڑوں کو دھو کر استری کر کے ٹوٹے ہوئے بٹن بشری اپنی ہندو ملازمہ سے بھی نہایت حسن سلوک وغیرہ ٹانک کو ضرورت مندوں کو دیئے جائیں۔سے پیش آتی۔اس کو بھی بانہیں کھول کر ملتی۔یاسیری جب کسی کی آنکھ میں آنسو دیکھتی کہتی مت ضائع مسجد کے حادثے پر بندوں کی آبادی میں آگ لگا دی گئی۔کر دیے کا نہ ان آنسوؤں کو خدا کے آگے بہاؤ ٹرکش گھروں کو گرا دیا گیا کبھی دن ملازمہ کے نہ آنے پر بہت ہلا کر رکھ دیں گے۔سید با دل کا درد اس حد تک پڑھے کہ تکیہ مند ہو گئی۔داؤد بھائی کے ساتھ غیریت معلوم کرنے کہ نہ آنکھیں آنسوؤں سے بیر نہ ہو جائیں تو ان لمحات کو بھی گئی۔بہت ساراشن اور ضرورت کی اشیاء ساتھ لے خوش قسمتی سمجھو۔میر کا پیمانہ چھلکے تو خدا کی رحمتوں کو گئی۔بیٹری کی ہمدردی اور پیار پر بے اختیار ہو کہ کا نزول ہوتا ہے جو کایا پلٹ کر رکھ دیتا ہے۔وہ بشری سے چمٹ گئی۔عید پر دینے کے لئے تحفہ خریدتی تو خاص طور خدا نقاط پر خاص اندانہ کا تو کل تھا۔اُس کی سب پر غریب بچوں کو سننے دیتی۔عید پڑھنے جاتی تو بینگ ضروریات اللہ پاک اپنے فضل سے پوری فرما دینا۔کبھی