حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 6 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 6

مصباح ربوه 6 دسمبر ۱۹۹۳ ء کے لئے گہرے تشکر کے جذبات کے ساتھ ممنون احسان تخھی تھی کلیوں کا ہار میری آنکھوں کے سامنے ہے کیونکہ رکھتی ہے۔ملک سے باہر آتے جاتے کہ اچی ائیر پورٹ میں جانتی تھی کہ ان بے موسم کی کلیوں کو خدا جانے بشری نے کہاں سے اکثر میرا گذر ہوتا۔میرا جہانہ آدھی دوپہر کو آنا ہوتا سے حاصل کر کے اپنے پر خلوص جذبات محبت کی عکاسی یا آدھی رات کو بیشتری اپنی کسی نہ کسی اور سائنتی کے کے لئے پر دیا ہوگا۔ساتھ ضرور وہاں موجود ہوتیں۔ہمیشہ خوشدلی کے ساتھے مسکراتے ہوئے۔ایک آدھ دفعہ کسی مجبوری کے باعث د شاید شہر سے باہر تھیں) نہ آسکیں تو اس کے لئے بشری قادیان میں ملیں تو اسی اپنے مخصوص پر خلوص انداز میں ایک تحفہ مجھے دیا۔میں بہت حیران ہوئی۔اور شرمندہ بھی۔یہاں بھی یہ میرے لئے تحفہ اُٹھا لائی ہیں۔لیکن ان بہت اظہار افسوس کیا ، ایک مرتبہ مجھے یاد ہے میرا کے شدید جذبات محبت کے سامنے میں انہیں کچھ نہ کہ سکی۔جہانہ آدھی رات کو پہنچنا تھا۔بہتری کے ساتھ ان کی اور خاموش رہی۔چھوٹی سی بیٹی عزیزہ طوبی بھی موجود تھی۔کہنے لگیں کہ بشری کا بے لوث ، بے ریاء اور بے پناہ خدمت دین بہت ضد کر کے آئی ہے کہ میں نے ملنے جاتا ہے۔رات کا کا جذبہ اور محض للہی جذبات محبت کی یاد ہمیشہ دل کو گداز وقت نیند سے برا حال لیکن صرف ملنے کے شوق میں وہاں کرتی ہے اور کرتی رہے گی۔اور یہ یاد ان کے لئے موجود تھی۔مجھے اُس پر بہت پیار آیا۔اس کا نام بھی اور اُن کے بچوں کے لئے دُعا میں ڈھل جاتی ہے۔مجھے پیارا تھا کیونکہ ایک اور طوبی بھی مجھے بہت پیاری ہے۔نام سے یاد آیا ان کے پڑے دونوں بچوں عزیزم لجنات کیلئے لائحہ عمل ناصر اور عزیزیم طاہر کے نام بھی مجھے ہمیشہ محبت کے ساتھ یاد رہتے۔اگرچہ ناموں کے معاملہ میں میری یادداشت بہت اچھی نہیں ہے لیکن بشری ہمیشہ کچھ اس طرح سے پیارے امام ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ان کے نام لے کر ان کے سلام بیایہ کے پیغامات دینیکی ارشاد پر عمل پیرا ہو کر اپنے بچوں میں پانچ بنیادی اخلاق پیدا کریں۔کہ وہ مجھے ہمیشہ یاد رہے۔بشری کی پر خلوص محبت کی ایک گہری یاد بھی ہمیشہ ہر معاملہ میں سچائی کو اختیار کرنا۔میرے دل کو گد گداتی ہے۔ایک مرتبہ میں کراچی گئی۔ہمیشہ نرم لہجہ اور پاک زبان استعمال کرنا۔لجنہ کراچی نے اپنے ایک پروگرام میں بلایا۔احمد یہ ہال میں ہمیشہ وسعت حوصلہ سے کام لینے اور ہر پروگرام تھا۔وہاں گئی تو بشر کی نے چھوٹی چھوٹی موٹے کی نقصان سے بچنے کی کوشش کرنا۔تھلیوں کا ہار مجھے دیا کہ یہ میں خود آپ کے لئے بنا کر لائی۔دوسروں کی تکلیف کا احساس کمرہ کے ازالہ ہوں۔وہ کلیاں اتنی چھوٹی تھیں کہ ان میں کھلتے کی سکت کی حتی المقدور سعی کرنا۔بھی نہ تھی۔لیکن ان کی یہی بات مجھے یاد رہ گئی۔آج بھی ان ہمیشہ مضبوط عزم اور ہمت سے کام لینا۔