حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 40 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 40

مصباح ریده 40 دسمبر ۱۹۹۳ء خور جہاں بشری داؤد بشری کی زندگی قابل رشک تھی اُس کی رحلت کبھی ایک لفظ بھی ان کے کردار کے خلاف نہیں بھی قابل رشک ہوگئی۔پیارے آقا حضرت امام جماعت احمدیہ شنا محبت کے ساتھ لجنہ کے فرائض سرانجام تے ۲۳ تولائی ۱۹۹۳ ء کے خطبہ جمعہ میں اُس کا ذکر دینے والی لیکن جو حسین بیان کا ملکہ خدا تعالیٰ نے با این الفاظ فرمایا :- بخشا تھا وہ خصوصیت سے سیرت کے بیان پر آج نماز جمعہ کے بعد دو پا کیا نہ خواتین کی نماز جناز ایسے جلوے دکھاتا تھا کہ دور نزدیک ان کی شہرت پڑھائی جائے گی جو خدمت دین میں پیش پیش تھیں یا پھیلی ہوئی تھی اور جب بھی سیرت کے مضمون پر دعاؤں میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اور عبادات میں زبان کھولتی تھیں تو ایسی متعصب خواتین بھی جو احمدیت اور لوگوں کی نیک تر سمیت کرنے میں انہوں نے اپنجا زندگی سے دشمنی رکھتی تھیں۔اگر وہ اُس جلسے پر لوگوں کے صرف کی اُن میں سے ایک ہماری بیشتری داؤد حوری ہیں کہنے کہلانے پر حاضر ہو گئیں تو ایک ہی تقریریش جو مکرم محترم مرتد اعبد الرحیم بیگ صاحب نائب امیر کراچی کی کے اُن کی کایا پلٹ جایا کرتی تھی وہ کہا کرتی تھیں صاحبزادی ہیں۔اکثر پہلوؤں سے اپنے باپ کے سب گئی کہ اس کے بعد ہمیں کوئی حق نہیں کہ جماعت احمدیہ انہوں نے اپنے وجود میں زندہ رکھنے کی کوشش کی ہے پر یہ الزام لگائیں کہ ان کو حضور افارس محمد رسول اللہ اور بے لوث خدمت جس کے ساتھ کوئی دکھاوے کا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت نہیں ہے۔تحریر عنصر نہیں اور انتھک خدمت جو مسلسل سالہا سال کا بلکہ بھی خدا نے عطا فرمایا تھا اور کئی کتا نہیں چھوٹی خدا کنانہیں تک رواں دواں رہتی ہے۔یہ وہ دو خصوصیات ہیں چھوٹی سیرت کے موضوع پر لکھیں۔ان کا آپریش جن میں مکرم مرزا عبدالرحیم بیگ صاحب نمایاں حیثیت وا تھا جس کے بعد گھر واپس آرہی تھیں کہ اچانک رکھتے ہیں۔یہی دو خصوصیات پوری شان کے ساتھ عزیزہ دل کا دورہ پڑنے سے وفات ہو گئی۔اللہ غریق رحمت جوری میں موجود تھیں اور حسین بیان کے ہلکے سے خدا نے فرمائے۔ساری جماعت کراچی سے کیکی تربیت کرتا ایسا نوازا تھا کہ اپنے ہوں یا بغیر ہوں جو بھی اُن کی ہوں۔مکرم مرزا عبدالرحیم بیگ صاحب ان کے خاندان تقریریں سنتا تھا وہ ہمیشہ ان سے گہر ائر لیتا تھا ان کے میاں داؤد سے اور بچوں سے بلکہ میں سمجھتا اور رطب اللسان رہتا تھا ان کی تعریف ہیں۔نہیں ہوں۔ساری جماعت کماچی تعریت کی محتاج ہے اور لجند اما واللہ کراچی خصوصیت سے تعزیت کا حق نے کبھی کسی کو اچھ کی یا باہر سے آنے والی خاتون سے سے