حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 31
مصباح ریو ۳۱ 31 وہ اپنے باپ کی دمساز تھی، ہمدم تھی، طاقت تھی ضعیفی میں یہ غم کیسے کٹے گا وہ نہیں ہوگی چلیں گے کام سب لجنہ کے پہلے سے کہیں بہتر گر بنیاد میں جس کا لہو تھا وہ نہیں ہوگی ابھی رہیں گی رہتی دنیا تک کتابیں یادگارہ اس کی مگر جس نے کہ سوچا اور لکھا تھا وہ نہیں ہوگی ی تکمیل کی راہوں میں تھے کتنے ہی منصوبے خدا کھولے گا کوئی اور رستہ وہ نہ میں ہوگی میری آنکھ میں چمک اٹھتی تھیں اس کو سامنے پاکر نظر آئے گا ہر مانوس چہرہ ، وہ نہیں ہوگی کیا کرتے تھے ہم ایک دوسرے سے دل کی سب باتیں کسی سے اب نہیں کچھ کہنا سنتا، وہ نہیں ہوگی ہماری طرح کم ہو گا کوئی یک جان و یک قالب بھری دنیا میں رہنا ہو گا تنہا وہ نہیں ہوگی حقیقت میں بقا تو وجہ رب لم یزل کو ہے رہے گا گل من علیها فان زندہ وہ نہیں ہوگی وہ رخصت ہو گئی دُنیا سے جو دکھ سکھ کی ساتھی تھی خود ہی اب رو کے آنسو پونچھ لینا وہ نہیں ہوگی دیمیبر ۱۹۹۲ء امہ الباری ناصر