حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 30 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 30

مصباح زاده ۳۰ 30 بشری کی یاد میں خدا کا خاص احساس تھا رفاقت بیشتری خوری کی ادھورے ہوگا مشکل سے گزارادہ نہیں ہوگی وہ واپس آ نہیں سکتی مگر یہ مان لوں کیسے ؟ کہ جب ہو گا کہیں سیرت کا جلسہ وہ نہیں ہوگی ستاروں کی طرح چھکے گی وہ تاریخ عالم میں رہے گا خو بیوں کا اس کی پھر چا وہ نہیں ہوگی دیا ہے اُس کے بچے دین ودنیا میں پھیلیں بھولیں مگر میں ماں نے پیدا کر کے پالا وہ نہیں ہوگی پیاروں میں کھلیں گے پھول پھیل آئیں گے بانوں میں مگر ہاتھوں نے جس کے بیج ڈالا وہ نہیں ہوگی دعا تھی ، حوصلہ تھی اور سکینت اپنے شوہر کی لگے گی ان کو خالی ساری دنیا وہ نہیں ہو گی جہاں پر آنکھ کھولی تھی وہیں لیں آخری سانسیں بہت تڑپے گی اس کی ماں کی ممتا وہ نہیں ہوگی سمبر ١٩٩٣ء ) ) ) ) ) ) ) ) ) ) ) ) ))))) ) ) ) ) ) ) ) ) )))))))