حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 75 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 75

مصباح دیده LD 75 مبر ۱۹۹۳ء 51995 بیشتری تو تو کمان کی پیابہ کرنے والی ہستی روج شاید ہم کو دیکھ رہی ہو کہ جن کی ذراسی تکلیف تھیں۔اب بھلا کون ہیں آپ کا سا پیا یہ رہے گا۔پر میں تڑپ اُٹھتی تھی اب کسی طرح تڑپ تڑپ کر اے خدا اس کے پیار کی کمی کو اب تو پورا کرہ تو ہمارا بے حال ہوئے جا رہے ہیں اس کا شیدائی میں آنسوؤں ہو جا اور ہم تیرے ہو جائیں۔تو تو لانے وال ہے۔کے دریا بہا دیئے ہیں۔بلا شبہ اگر اجازت ہوتی تو ہمیں کبھی چھوڑ کر نہیں جائے گا۔زمین کا سینہ چیر کہ تجھ سے اکیٹتے۔اس سے پیار اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ آپ کو جنت الفروں پر تو شرک کا گمان ہونے لگتا تھا۔اے خدا تو تمہیں میں بلند سے بلند تر مقام عطا فرماتا چلا جائے جو شفقت مہر و بہت دے۔ایسا نہ ہو کہ ہمارا غم بھی شرک اور پیار انہوں نے اس دنیا میں نہیں دیا۔اللہ تعالی کی حدود کو چھونے لگے۔اس سے بڑھے کہ اس سے پیارہ کا سلوک کرے۔اس یہ ہم سب کے لئے ایک عظیم صدمہ ہے جو سے پیار کا اجر عظیم عطا فرمائے۔ان کے والدین شوہر بھلایا جانے والا نہیں۔مگر خدا تو ہر چیز پر قادر اور بچوں کو صبر جمیل عطا فرمائے ، غمگین دلوں پر ہے۔وہی اس عظیم خلا کو اپنی قدرت سے پر کرے اور اس صدمہ کو برداشت کرنے کی توفیق سکینت نازل فرمائے۔اے خدا تو ماں کی ٹھنڈی میٹھی چھاؤں سے عطا فرمائے۔محروم بچوں کو اپنی ٹھنڈی میٹھی آغوش میں پروان چڑھانا۔وہ پھلیں پھولیں۔دین ودنیا میں ترقی کریں۔خوبی کو بستری ثانی بنا دیتا۔جنم دینے والی ماں ہیں یدا ہوئی ہے۔تخلیق کرنے والی اور ان سے بڑھ کچھ واقفین بچوں مں خوش مزاجی اور حمل پیدا کریں پیار کرنے والا خدا تو ہمیشہ زندہ رہے گا۔چند روز قبل میں نے خواب میں دیکھا۔بشری بچپن سے ایسے بچوں کے مزاج میں شگفتگی پیدا کرنی میرے گھر آتی ہے۔کہیں اس کو بہت پیار کہتی ہوں، یہی چاہیئے۔ترش روئی وقف کے ساتھ ہیں پہلو بہ پہلو نہیں چل کے چہرے اور بالوں میں سے نہایت کمرہ خوشبو آرہی ہے۔میں خوشیو سونگھنتی جا رہی ہوں اور پیار سکتی تریش تو واقفلی زندگی ہمیشہ جماعت میں مسائل پیدا کیا کرتے ہیں اور بعض دفعہ خط ناک فتنے بھی پیدا کر دیا کرتے ہیں۔اس نے خوش مزاجی اور اس کے ساتھ مخمل کہتی جا رہی ہوں۔وہ جنت کی ہی تو خوشبو تھی جو اس میں سے آ رہی تھی۔اور حقیقت میں بھی وہ ہمیں اپنا بے انتہا پیار دے کر خود خوشبو بن کر ہمیں معتظر کرتی رہی اور اب بھی خوشبو کی طرح اس کی یا دیں ہر طرف بکھری ہوئی ہیں۔اس کی یعنی کسی کی بات کو سیرداشت کرنا ، یہ دونوں صفات واقفین بچوں میں بہت ضروری مین ( خطبه جمعه در سوده ۱۰ فروری ۱۹۸۹ م )