حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 74
معیاری دیده ۷۴ 74 د نمبر ۱۹۹۳ء کوئی ثانی نہیں تھا۔ان کی تقریر سب سے منفرد و گا اور اتنا زیادہ وقت دے گا۔کس کے پاس بیٹھے انو کسی طرز کی دلوں کو گداز کر دیتی۔جیسا کہ کہ ہم زندگی سے بھر پور قہقہے لگائیں گے اور اپنے حضور نے فرمایا کہ خواہ کتنا ہی کوئی مخالف تم بھولیں گے۔کیوں نہ ہو ان کی تقریریس کو اپنے خیالات بدلنے پر کس کی محبت بھری نگاہیں مسکراہٹیں اور قہقہے مجبور ہو جاتا اور اس روحانی محفل پر ایک وجد کا سا ہمیں اور سرور بخشیں گے۔اب کسی سے ہماری محفلیں سماں پیدا ہو جاتا۔سننے والے کبھی آنسو بہاتے اور اور سیرت کے جلسے سمجھیں گے۔یہ خلا تو پُر ہوتا نظر۔کبھی بھوم مفهوم کر داد دیتے۔ہر کوئی ان کی تقریر نہیں آتا۔خدا کا کام تو ہوتا چلا آیا ہے اور ہوتا چلا جائے شن کی دوبارہ سننے کا آرزو مند رہتا۔ان کی گا گھر ماں باپ کو ایسی عظیم بیٹی۔بہن بھائیوں کو ایسی تقریریں سیرت کے جلسے کی کامیابی کی ضمانت تھیں۔محبت کرنے والی ہیں۔شوہر کو ایسی وفاشعارہ ساتھی۔جتنا بڑا مجمع ان کی نظروں کے سامنے ہوتا اتنی ہی بچوں کو ایسی پیار کرنے والی اور خدا ہونے والی ماں۔پر جوش ان کی تقریر ہو جاتی کہ سننے والوں پر اور دوستوں کو ایسی پر خلوص اور محبت کرنے والی رقت طاری ہو جاتی۔دوست کبھی نہیں ملے گی۔ایسے قیمتی با فیض وجود کبھی کوئی بڑا مجمع یا بڑی بڑی خوبصورت تو صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔عبادت گاہ لوگوں سے بھری ہوئی دیکھتیں تو حیرت آج بھی بشری کی پیاری آواز اور جنسی کی مسحورکی سے کہیں کہ کاش مجھے کوئی ان میں گھسنے کی اجازت کھنک سنائی دیتی ہے۔ہر گھر اور ہر زبان پر کرنی دے تو نہیں سیرت پر تقریریں کروں۔ان کو اپنے آقال - کاری تذکرہ جاری ہے اور نہ جانے کب تک تجاری پیاری پیاری باتیں بتاؤں جو یہ نہیں جانتے بخدا نے رہے گا۔کب تک ہم اس کی بھلائی میں درد کے چاہا تو یہ سب ہماری ہی سو جائیں گی اور میں اپنا شوق فسانے لکھتے رہیں گے۔قدم قدم پر تو بشری کی پورا کروں گی۔وہ عاشیق رسول اور امامت کی خدائی۔حسیں یادیں بکھری پڑی ہیں۔اسے کیسے نہ یاد کریں ہم۔به حضرت اپنے دل میں ہی لے کہ خیالی گئی۔اس کا نام تو اس کی خدمات کے پیش نظر تاریخ احمدیت ینٹری ! تو ہم سے اتنی جلدی جدا ہو جائے گی۔میں بھی ہمیشہ کے لئے زندہ رہے گا۔آئندہ آنے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ابھی تو ہم نے تم سے بہت کچھ والی نسلیں بھی ان کے لئے دعا گو رہیں گی۔ان کا نیک سیکھنا تھا۔بہت کچھ پوچھنا تھا۔قدم قدم پر نمونہ بھی آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ بنا تمہار کی رہنمائی حاصل ہوتی تھی۔اب کسی سے ہم اپنے دکھ درد اور پریشانیاں اے جانے والی پیاری بشری تجھے تیرے موئی بیان کریں گے کون ہمیں دلا سے دے کر مطمئن کرے کا بے حساب پیار نصیب ہو وہ تجھے اپنی رحمتوں اور گا۔کون ہمیں مزے مزے کی باتیں کرنے کے لئے فون کرے فضلوں کے سائے میں رکھے۔رہے گا۔L